ہمارا معاشرہ حیوانوں کی شکارگاہ کیوں بن رہا ہے ؟ 04-07-2013

kal-ki-baat
اس قسم کی خبریں تقریباً روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں کہ کسی درندہ صفت شخص نے کسی کمسن بچے یا بچی کو اغواءکیا اور اسے اپنی حیوانیت کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔
دو روز قبل اس قسم کی لرزا دینے والی خبر تین سالہ ایک معذور بچی کے بارے میں تھی۔ گزشتہ روز اس نوعیت کا شرمناک واقعہ سات سالہ ایک بچے کے ساتھ پیش آیا۔ اور آج جو خبر نظر سے گزری ہے وہ قبر میں تازہ تازہ دفن کئے جانے والے ایک نو عمر لڑکے کی میت کے ساتھ درندگی کے واقعے کے بارے میں ہے۔
یہ ایک ایسا قبیح موضوع ہے کہ اس پر قلم اٹھاتے ہوئے مجھے کراہت محسوس ہورہی ہے۔ اس قسم کے حیوانوں کا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین پر موجود ہونا بذات خود ہمارے لئے بے پناہ شرم اور ندامت کا سبب ہے ۔ اور ایسے حیوانوں کا اس قدر آزادی کے ساتھ اس قسم کی انسانیت سوز وارداتیں کرنا ہم سب کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ہوسکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی اس قسم کی درندگی کا ارتکاب کرنے والے کسی حیوان کے کیفر کردار تک پہنچنے کی کوئی خبر شائع ہوئی ہو۔
یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ یہاں پاگل کتوں کا صفایا کرنے کی مہم تو اکثر چلتی رہتی ہے لیکن جو درندے انسان نما ہوتے ہیں انہیں اُن کے انجام تک پہنچانے میں ہمارا معاشرہ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔
جس معاشرے میں جرائم کا ارتکاب توتواتر اور باقاعدگی کے ساتھ ہوتا ہو مگر جس میں مجرموں کو ملنے والی سزا سے لوگ یا تو اس وجہ سے بے خبر رہتے ہوں کہ سزا دی ہی نہیں جاتی ` یا پھر اس وجہ سے ناآگاہ ہوں کہ سزا کی تشہیر نہیں ہو پاتی ` اس معاشرے کو تباہی اور بربادی سے کوئی معجزہ بھی نہیں بچا سکتا۔
اِس معاشرے میں نہ تو کبھی کوئی توقیر صادق پکڑا جاتا ہے اور نہ ہی کسی کمسن بچی کے ساتھ حیوانی سلوک کرنے والا کوئی درندہ۔۔۔

Scroll To Top