گردنیں موجود ہیں مگر پھندے غائب !

aaj-ki-baat-new

میرا یہ کالم 28 جون 2013کو بھی شائع ہوا تھا۔۔۔ پانچ برس بعد ہم پھر انتخابات کے دہانے پر کھڑے ہیں اب بھی گردنیں موجود ہیں مگر پھندے غائب ۔۔۔
خدا کرے کہ وہ دن بہت زیادہ دور نہ ہو جب یہ قوم کسی شک و شبہ کے بغیر ملک سے غداری کا مطلب جان جائے۔
اس وقت بڑا ابہام ہے ۔ بڑی بے یقینی ہے ۔ قوم کو درحقیقت یہ معلوم نہیں کہ آئین کی شق6 سے انحراف ملک سے بڑی غداری ہے یا قومی خزانے کو لوٹ کرقو می دولت باہر لے جانا۔۔۔یا پھر قوم کے اعتماد کی دھجیاں بکھیر کر قوم کی طرف سے عطاکردہ اختیار کو ملک میں محرومی بربادی اور مایوسی کی فصل اگانے کے لئے استعمال کرنا ۔۔۔
قوم کے سامنے آج کل ایک معاملہ جنرل پرویز مشرف کے ” جرم ”کا ہے
مگر ایک معاملہ سوئس بنکوں سے غائب ہونے والی قومی دولت کا بھی ہے جس سلسلے میں ایک مجرمانہ جعلی خط ہماری سابق حکومت کے صاحبانِ اختیار نے سوئس حکام کو پہنچایا۔
اور ایک معاملہ اب یہ بھی قوم کے شعور کو نئے چرکے لگانے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے اقتدار کے آخری روز یعنی 15 مارچ 2013 کو اپنے اختیارات کا مجرمانہ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسے حکم نامے پر دستخط کئے جس کی رو سے ہماری ٹمبر مافیا کو بلتستان کے جنگلوں کے جنگل کاٹ کر لے جانے کی اجازت مل گئی۔مملکت خدادادِ پاکستان کے خلاف اس سنگین جرم کی وجہ سے ٹمبر مافیا کی جیبوںمیں آٹھ ارب روپے کی خطیر رقم گئی ہے۔
اگر جنرل پرویز مشرف کا جرم اس قد ر سنگین ہے کہ اسے غداری کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے تو یہ لوگ جو ملک کے خلاف دوسرے سنگین تر جرائم میں ملوث ہیں ان کی تعریف ہم کن الفاظ میں کریں گے ۔
چیف جسٹس صاحب اگر واقعی انصاف کرنا چاہتے ہیں تو ایک دو نہیں ، درجن بھر پھندے تیار کرائیں ۔بہت ساری گردنیں ان پھندوں میں جانے کی” مستحق “ہیں !

Scroll To Top