حسن ، حسین اور اسحاق ڈار کو انٹرپول کے زریعہ لایا جائیگا !

zaheer-babar-logo

قومی احتساب بیورو جس طرح اپنی زمہ داریاں ادا کررہا ہے اس پر بارے کئی آراءموجود ہیں۔ ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ عام انتخابات سے چند ہفتے قبل جس طرح نیب متحرک ہوا اس کے اثرات الیکشن پر پڑسکتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ نیب کی جانب سے جن اہم شخصیات کو تحقیق کے لیے طلب کیا جارہاہے ان میں پاکستان مسلم لیگ ن کے علاوہ تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی معقول تعداد ہے۔ یہاں یہ بھی اہم ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن طے شدہ حکمت عملی کے تحت احتساب ادارے کو متازعہ بنانے کی روش پر گامزن ہے۔ پی ایم ایل این کے کرتا دھرتا افراد اس پر یقین رکھتے ہیں کہ بدعنوانی کے مقدمات میں عدم ثبوت کی بنا پر ان کا بچاو ممکن نہیں رہا چنانچہ بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے خلاف سازش کی دہائی دی جائے۔
پانامہ لیکس میں نااہل ہونے کے بعد سے لے کر اب تک میاں نوازشریف قومی اداروں پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ عدلیہ اور فوج سابق وزیر اعظم کا خصوصی ہدف ہے۔ اس صورت حال میں نیب کی جانب سے اپنا اعتماد بحال رکھنا کسی طور پر کارنامے سے کم نہیں۔ تازہ پیش رفت میں
قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن، حسین نواز، اسحاق ڈار اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے داماد عمران علی سمیت دیگر افراد کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپسی لانے کی منظوری دے دی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیرمین نیب کہنا تھا کہ طاقتور صرف اللہ کی ذات ہے اور آزمائش رب کی طرف سے آتی ہے جبکہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ہمارا کسی گروپ یا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے کوئی سیاسی عزائم ہیں۔“
وطن عزیز کا ہر باشعور شخص یہ امید رکھتا ہے کہ احتساب کا عمل ہر حال میں جاری وساری رہنا چاہے۔یعنی انتخابات سے پہلے اور بعد میں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ایسی کارروائیاں جاری رہنی چاہے جس سے عام آدمی میںجواب دہی کا احساس پختہ ہو۔ الیکشن زیادہ دور نہیں رہ گے لہذا سیاست دانوں کو چاہے کہ وہ انتخابی مہم بھی چلائیں مگر جب نیب انہیں بلائے تو وہ پیش بھی ہوں۔قومی احتساب بیورو پر تنقید کرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہے کہ نیب بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انتخابات سے پہلے بھی کام کر رہا تھا اور بعد میں بھی یہ عمل بھی جاری رہے گا۔درحقیقت دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی خلاف وزری کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا مہذب ملکوں میں قانون پر عمل درآمد لازم تصور کیا جاتا ہے۔یقینا حسن، حسین نواز، اسحاق ڈار سمیت تمام افراد کو انٹرپول کے ذریعے لانے کے سوا کوئی آپشن نہیں رہ گیا مذکورہ شخصیات ٹی وی کمیروں کے سامنے متحرک نظر آتی ہیں مگر احتساب عدالتوں میں پیش ہونے کے سوال پر بہانے بازی پر اتر آتی ہیں۔ یقینا چیئرمین نیب کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کوئی شخص چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو نیب کے گیٹ کے باہر اس کا اثر و رسوخ ختم ہوجاتا ہے۔
ادھر اب تک کی قانونی کاروائی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز، سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے داماد علی عمران کو انٹرپول کے ذریعے جلد ازجلد پاکستان لاکر قانونی کاروائی مکمل کرنا ہوگی۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ نیب کی جانب سے ان تمام افراد کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا تاکہ ان کے خلاف دائر مقدمات پر فوری فیصلہ کیا جائے۔واضح رہے کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں مگر شریف خاندان اس قانونی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھرپور تعاون نہیںکررہا۔
گزرے ماہ وسال میں یہی ہوتا چلا آیا کہ طاقتور افراد عملا قانون کا مذاق اڈاتے رہے۔ سابق صدر زرادی پر بدعنوانی کے کئی مقدمات زیرسماعت رہے مگر سرکاری ادارے کسی بھی مقدمہ میں پی پی پی کے شریک چیرمین کو سزا دلوانے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ایسا بھی ہوا کہ نیب حکام نے عدالت میں خود تسلیم کرلیا کہ ان کے پاس اصل کاغذات کا ریکارڈ ہی موجود نہیں۔
سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کا خاندان بھی اس لحاظ سے خاصا نمایاں رہا کہ اس کے خلاف کبھی بھی ٹھوس قانونی کاروائی عمل میں نہ آسکی ۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں شریف بردارن کے خلاف مقدمات تو ضرور قائم ہوئے مگر پھر این آر او کے زریعہ ان کو جلاوطن کردیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانیون کی غالب اکثریت احتساب کے عمل پر دل وجان سے یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ اہل اقتدار لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے احتساب احتساب کا نعرہ لگاتے ہیں۔ مگر خیال کیا جارہا کہ ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے کہ اب بہتر ی کے علاوہ کوئی چار کار نہیں رہا لہذا سیاست کو کاروبار کی بجائے لوگوں کی خدمت کا زریعہ بنانے کے لیے سخت اقدمات اٹھانے ناگزیر ہوچکے۔

Scroll To Top