پولیو وائرس دماغی کینسر کے علاج میں مددگار ثابت

s

پولیو کے تبدیل شدہ وائرس سے دماغ کے کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

نارتھ کیرولائنا: امریکی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پولیو وائرس بعض اقسام کے دماغی کینسر میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور اس سے مریضوں کی زندگی کا دورانیہ بڑھایا جاسکتا ہے۔

امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں واقع ڈرہام یونیورسٹی کے ماہرین نے خطرناک مرض پولیو کے وائرس کو تبدیل کرکے اسے گلایو بلاسٹوما کے علاج میں استعمال کیا ہے۔ ایک بیماری کے وائرس سے دوسرے مرض کو ختم کرنے کے اس عمل کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

دماغی کینسر کے مرکز میں ڈاکٹر ڈیرل بینر اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جب پولیو وائرس سے گلایو بلاسٹوما کے مریضوں کا علاج کیا گیا تو ان میں سے 21 فیصد مریضوں کی زندگی کا دورانیہ بڑھا جس سے اس عمل کی افادیت ثابت ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ گلایو بلاسٹوما دماغی کینسر میں سب سے بدتر ہے اور اس کا آخری درجہ صرف چند ماہ تک ہی مریض کو زندہ رہنے دیتا ہے۔

اس مطالعے کے نتائج نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئے ہیں۔ چونکہ پولیو وائرس دماغی خلیات پر حملہ کرتا ہے اور اسی بنا پر اس کا انتخاب کیا گیا لیکن ماہرین نے جینیاتی تبدیلیاں کرکے اس کے دماغ کو متاثر کرنے والے تمام جین نکال باہر کیے ہیں اور ان کی جگہ بے ضرر جین شامل کیا گیا۔

وائرس کو مریض کی دماغی رسولیوں میں داخل کیا گیا تو اس سے نہ صرف سرطانی گلٹیاں ختم ہوئیں بلکہ جسم کا امنیاتی نظام بھی کینسر سے لڑنے کے دوبارہ قابل ہوگیا۔ پولیو وائرس کو 61 مریضوں پر سال 2012 سے 2017 کے درمیان آزمایا گیا۔ اس سے مریض خاصے عرصے زندہ رہے جبکہ ان پر اس ترمیم شدہ پولیو وائرس کا کوئی منفی ضمنی اثر (سائیڈ ایفیکٹ) مشاہدے میں نہیں آیا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس طرح ہر مریض کی اوسط عمر میں ساڑھے 12 مہینے کا اضافہ ہوا۔

دو مریض 6 سال اور ایک مریض اگلے 5 برس تک زندہ رہا۔ ماہرین نے اس قسم کے کینسر کے مریضوں میں اتنی طویل زندگی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی تاہم یہ طریقہ ہر مریض کےلیے کارگر ثابت نہ ہوسکا۔ اب اگلے مرحلے میں دماغی سرطان والے بچوں، چھاتی کے سرطان اور جلد کے سرطان والے مریضوں پر پولیو وائرس آزمایا جائے گا۔ اس ضمن میں ایک کمپنی بناکر فیز ٹو کلینکل ٹرائلز کا آغاز کیا جارہا ہے۔

Scroll To Top