” اس جائیداد کی خاطر تو اس قدر ذلیل و رسوا ہوئے ہیں ابا حضور۔۔۔ یہ جائیداد ہم اُسے بالکل نہیں دیں گے بہتر یہ ہے کہ اُسے وزیراعظم مان لیں۔۔۔“

ہم تمام کاموں سے فراغت پاکر اپنی بیانک بیٹریوں کی طرف متوجہ ہونے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ بھائی واقفِ حال کا فون آگیا۔
” السلام علیکم بھائی ہمہ تن گوش۔ ہم چاروں صوبوں کا دورہ کرکے آج ہی واپس پہنچے ہیں اور سب سے پہلے آپ سے بات ہورہی ہے۔“ انہوں نے فرمایا۔
” بات آپ کراچی کوئٹہ پشاور اورلاہور سے بھی کرسکتے تھے بھائی واقفِ حال۔ آپ کچھ کچھ شریف فیملی کے انداز میں باتیں کرجاتے ہیں کبھی کبھی ۔۔۔“ہم نے ازراہ مزاح کہا۔
” ہم نہیں سمجھتے کہ ہم دس جنم لے کر بھی شریف فیملی کے پائے کے جھوٹ بول سکتے ہیں بھائی ہمہ تن گوش۔“ بھائی واقفِ حال بولے۔ ” اِن لوگوں کا کمال تو یہ ہے کہ صبح ایک جھوٹ بولتے ہیں جو دوپہر کو پکڑا جاتا ہے تو شام کو وہ صبح والے جھوٹ سے مُکر کر ایک نیا جھوٹ بول دیتے ہیں۔ میاں صاحبان اور محترمہ مریم صاحبہ کو اپنے حامیوں اور متوالوں کی سادہ لوحی یا کند ذہنی یا پھر ہٹ دھرمی پر اتنا بھروسہ ہے کہ انہیں اپنا پرانا جھوٹ کینسل کرکے نیا جھوٹ جاری کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوتا۔ اب یہی دیکھیں کہ بجلی غائب ہوتی ہے تب بھی وہ نہایت دلیری کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے لوڈشیڈنگ اور اندھیرے ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردکھایا ہے۔ بیگم صاحبہ کلثوم کے بارے میں مریم صاحبہ کبھی یہ بلٹیں جاری کرتی ہیں کہ طبیعت سنبھل رہی ہے اور انہیں خوراک بھی دی گئی ہے اور کبھی اچانک ٹوئیٹر پر یہ اعلان ہوتا ہے کہ بیگم صاحبہ ابھی تک وینٹی لیٹرپر ہیں اور ہر خاص و عام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان کی صحتیابی او ر زندگی کے بارے میں دعا کریں۔ میاں صاحب کو شاید ابھی معلوم نہیں کہ وینٹی لیٹر ہوتا کیا ہے۔ شاید ان کا خیال یہ ہو کہ عینک قسم کی کوئی چیز ہوتی ہے جسے جب چاہے اتار لیا جائے اور جب چاہے پہن لیا جائے۔“
” بھائی واقفِ حال آپ نے تو باتوں ہی باتوں میں پورا کالم لکھ مارا ہے۔ “ ہم ہنس کر بولے۔
” لکھ نہیں مارا ، بول مارا ہے۔ قسم ہے بھائی ہمہ تن گوش ہم نے تصور میں بھی ایسے ڈھیٹ اور بے شرم لوگ نہیں دیکھے۔ اُس اسحاق ڈار کودیکھا؟ چال ڈھال سے لگتا نہیں تھا کہ کھیلوں کے کسی مقابلے میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں موصوف ۔ مگر ڈاکٹر سے رپورٹ یہ لکھوائی ہے کہ اگر مریض نے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کی تو بایاں یا دایاں کندھا اتر جائے گا۔“ بھائی واقفِ حال بولے۔
” لطیفہ گوئی چھوڑیں بھائی واقف ِحال۔ یہ بتائیں کہ چاروں صوبوں کا دورہ کرکے آپ کس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ “ ہم نے کہا۔
” کراچی میں ہم نے ایک مہاجر بھائی سے پوچھا کہ آپ کی شہبازشریف کے بارے میں کیا رائے ہے۔ اس نے فوراً پوچھا: آپ راحیل شریف کے بھائی کی بات کررہے ہیں؟ ہم نے کہا کہ راحیل شریف سے شہبازشریف کا کیا تعلق ؟ ہم نوازشریف کے بھائی کی بات کررہے ہیں۔ وہ فوراً بول پڑے: اچھا اچھا وہ پاناما والے نوازشریف۔ مریم صاحبہ کے ابا۔ بڑی سمارٹ خاتون ہیں اب بھی۔ انہیں کیوں نہیں کراچی بھیجتے؟ ہم ان کا بیگ ووٹوں سے بھردیں گے۔ ہمیں ان کی یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے۔ ووٹ کو عزت دو۔ ووٹوں کو صحیح عزت دی جائے نا ، تو ووٹ نوٹ بن جاتے ہیں۔ہمارے کراچی والے لیڈر پہلے بڑے غریب ہوا کرتے تھے۔ جب سے ووٹ کو عزت دینے کا سلسلہ شروع ہواووٹ ، ووٹ نہیں رہے نوٹ بن کر ان کی تجوریوں میں چلے گئے ہیں۔“
”اف بھائی واقفِ حال ۔ آپ نے تو ایک اور کالم لکھ مارا ہے۔ “ ہم بیچ میں بول پڑے۔ ” اب آپ اپنا کام کریں۔ اور ہم اپنا کرتے ہیں۔ “
” آپ کچھ عرصے کے لئے اپنی بیانک بیٹریاں ہمیں ادھار نہیں د ے سکتے بھائی ہمہ تن گوش ؟ اچھا خدا حافظ۔ ہمیں بھی ایک ضروری کام سے جانا ہے کہیں۔“ یہ کہہ کر بھائی واقفِ حال نے فون بند کردیا۔ ہم نے اپنی بیانک بیٹریوں کو آن کیا۔ فریکوئنسی پہلے سے ہی سیٹ تھی۔ بلاتاخیر ہم لندن پہنچے۔
” مریم بیٹی ۔ تم مانو یا نہ مانو۔ اب ہم کھجورمیں اٹک چکے ہیں۔ “ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔
” آسمان سے آپ نے اپنے آپ کو خود گرایا تھا اباجان۔ آپ سے کس نے کہا تھا کہ پاناما کا معاملہ شروع ہوتے ہی آپ قوم سے خطاب کرڈالیں۔ ؟“ یہ مریم کی آواز تھی۔
” تمہارا حافظہ بڑا کمزور ہے بیٹی۔ تم بھول گئی ہو کہ یہ مشورہ تمہارا ہی تھا۔ “ یہ میاں صاحب تھے۔
” ارے ہاں۔ یاد آگیا ۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا ابا جان کہ یہ کمینہ عمران ہاتھ دھوکر ہمارے پیچھے پڑ جائے گا۔ ستیاناس ہو اس کا ۔ اللہ اسے برباد کرے۔ “ یہ مریم کی آواز تھی۔
” اگر اس پر ہماری بددعاﺅں اور گالیوں کا کوئی اثر ہونا ہوتا تو اب تک برباد ہوچکا ہوتا۔ ہم نے اس پر دانیال عزیز چھوڑا ، طلال چوہدری چھوڑا ، رانا ثناءاللہ بھی چھوڑا ، مریم اورنگزیب چھوڑی اور ریحام خان اور عائشہ گلیلائی کو بھی چھوڑ کر دیکھ لیا ہے۔ اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ افتخار چوہدری کا فائر بھی بے کار ثابت ہوا ہے۔ اب ایک ہی صورت رہ گئی ہے۔ “ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔
” وہ کیا ابا جان ؟ “ مریم نے کہا ۔
” ہم لندن کی ساری جائیداد اس کے نام لکھ دیں۔ شاید وہ لالچ میں آجائے۔“ میاں صاحب بولے۔
” ہائے ابا جان۔ اس جائیداد کی خاطر تو ہم اس قدر ذلیل و رسوا ہوئے ہیں ۔ یہ جائیداد ہم اسے بالکل نہیں دیں گے۔۔۔ بہتر یہ ہے کہ اسے وزیراعظم مان لیں۔“ یہ مریم کی آواز تھی ۔ اس سے پہلے کہ میاں صاب کوئی جواب دیتے ، فضا میں بلند ہونے والے شور نے ہمارا بیانک رابطہ توڑ دیا۔۔۔۔

Scroll To Top