ملک ریاض سے حساب لیا جائیگا ؟

zaheer-babar-logo

چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہوگی کہ انھوں نے ملک کو ملت کو درپیش بعض ایسے تنازعات کو حل کرنے کا بیڑہ بھی اٹھا لیا جہاں بڑوں بڑوں کے پر جلتے تھے۔پانامہ لیکس، اصغر خان کیس ، کالاباغ ڈیم بنانے کا معاملہ، غیر ملکی شہریت رکھنے والے سرکاری افسران کی جھان بین،موبائیل کارڈ پر ٹیکس کا خاتمہ ، پیڑولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافہ غرض طویل فہرست ہے جس پر عدالت عظمی کی جانب سے مختصر عرصہ میں خاطر خواہ پیش رفت دکھائی گی۔ اس میں دو آراءنہیں کہ درج بالا سب ہی اقدمات عدالت عظمی کی بجائے حکومت وقت کی زمہ داری تھی جنھیں اس نے یکسر نظر انداز کیا۔آج وطن عزیز کا شائد ہی کوئی ہوشمند شخص ہو جو جوڈشیل ایکٹویزم کی افادیت کا انکاری ہو۔ یہ بھی سچ ہے کہ ملک کے طاقتور طبقات چیف جسٹس سے نالاں ہیں۔ سیاسی محاذ پر سب سے بڑی مخالفت پاکستان مسلم لیگ ن کررہی ہے جس کے سربراہ میاں نوازشریف بدعنوانی کے مقدمات میں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دے دئیے گے ۔ ادھر مغرب نواز حضرات بھی سپریم کورٹ کے خلاف مورچہ زن ہیں اور پی ایم ایل این کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔
کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی دیکھنے کا معیار ایک ہی ہے یعنی وہاں کے طاقتور لوگوں کس حد تک اس پر کاربند ہیں۔ ہم باخوبی جانتے ہیں کہ ستر سالوں سے یہاں طاقتور کے لیے کچھ اور کمزور کے لیے کوئی اور قانون رہا مگر اب اس رجحان میں بتدریج تبدیلی آرہی ہے۔ اس کا تاذہ ثبوت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے ڈالا۔ عدالت عظمی نے بحریہ ٹان کو پانچ ارب بطور گارنٹی جمع کرانےکی بھی ہدایت کردی۔ اس اہم مقدمہ کی سماعت کے موقعہ پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ملک صاحب آپ سے پائی پائی کا حساب لیں گے۔ آپ کے سارے لین دین اور تعلقات کا علم ہے۔ سب کچھ چھوڑ کر توبہ کر لیں۔
سپریم کورٹ میں بحریہ ٹان نظرثانی کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس نے بحریہ ٹان کے مالک ملک ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کے سارے لین دین اور تعلقات کا علم ہے۔ ایک موقعہ پر چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں کیا ہوا یہ بھی جانتے ہیں۔ آپ پہلے کسی سے مل کر حکومت تبدیل کرا لیتے تھے۔ حکومتیں بنانے اور گرانے کا کام چھوڑ دیں،اب آپ کسی ایسی جگہ نہیں عدالت میں ہیں۔ آپ کو ڈان آپ کے عمل اور لوگوں نے بنایا۔ سب کچھ چھوڑ کر توبہ کر لیں۔اس پر ملک ریاض نے کہا ، میں نے کون سا گناہ کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حساب کتاب کے بعد سب سامنے آجائے گا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا ، آپ کا اتنا اثرورسوخ ہے۔ کل کی ساری عدالتی کارروائی میڈیا نے بلیک آٹ کردی۔ ملک ریاض نے جواب میں کہا، ہر چیز میرے نام نہ لگائی جائے۔ پورے میڈیا میں مجھے ڈان بنا دیا گیا ہے۔“
یقینا عدالت عظمی کا بحریہ ٹان کو پندرہ دن میں پانچ ارب بطور گارنٹی جمع کرانے اور ملک ریاض ان کی اہلیہ اور بچوں کی تمام جائیدادضبط کرنے کا حکم غیر معمولی ہے۔ ملک ریاض سے متعلق بہت کچھ کہا اور سنا جاتا ہے مگر شائد ہی ایسا ہوا کہ کسی بھی عدالت کی جانب سے کوئی قابل زکر فیصلہ سامنے آیا۔ عدالت عظمی کے اس اہم فیصلہ میں یہ بھی ہدایت کی گی کہ بحریہ ٹان الاٹیز سے وصول رقم کا بیس فیصد عدالت میں جمع کرائے اور اکانٹ کی ماہانہ آڈٹ رپورٹ بھی پیش کرے۔یاد رہے کہ 4مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹان کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹان کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔
حالیہ سالوں میں ملک میں کئی تبدلیاں رونما ہوچکیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کا بدعنوانی کے مقدمہ میں اپنے عہدے سے محروم ہونا بھی تاریخی فیصلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست پر حکومت کرنے والا خاندان آج جس طرح جواب دہی کے عمل سے گزر رہا ہے وہ آئین اور قانون کی بالادستی کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا نہیں کہ پاکستان میں سب کچھ بدل چکا یقینا بہت سارے ایسے معاملات ہیں جن پر تیزی سے پیش رفت دکھانا ہوگی مگر بطور قوم ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ قومی تاریخ ہر طالب علم آگاہ ہے کہ جمہوری نظام کا تسلسل نہ ہونا بھی بڑے مسائل میں سے ایک رہا مگر ایسا نہیں۔ دوحکومتیں اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوچکیں تو اب تیسری بار بروقت عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا۔ موجودہ غیر یقینی صورت حال کو یوں بھی دیکھنا چاہے کہ بطور قوم ہم تسلسل کے عادی نہیں۔ ایسے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ہمہ وقت کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں سازش کے متلاشی رہتے ہیں۔ اس ضمن میں صورت حال کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پانامہ لیکس کی شکل میں بین الاقوامی سیکنڈل میں پکڑے جانے کے باوجود میاں نوازشریف سازش کی دہائی دے رہے۔ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا شخص عدالت عظمی کی سرعام توھین کا مرتکب ہورہا ۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اب ہمارے پاس غلطی کی گنجائش نہیں رہی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل تقاضا کررہے کہ ہم پرانی غلطیوں کا بار بار نہ دہرائیں شائد یہی وجہ ہے کہ اب ملک ریاض جیسی شخصیت کو عدالتوں میں حساب دینا پڑ رہا ہے۔

Scroll To Top