حکمرانی بھی ایک کھیل ہی ہے ! 03-07-2013

kal-ki-baat

کچھ کھیل افراد کے درمیان کھیلے جاتے ہیں جیسے ٹینس سکوائش ` بیڈ منٹن اور باکسنگ وغیرہ۔ اور کچھ کھیل ٹیموں کے درمیان کھیلے جاتے ہیں ۔ جیسے فٹ بال ` ہاکی اور کرکٹ۔ اجتماعی کارکردگی پر مبنی کھیلوں میں ٹیم گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص ذمہ داری کے مطابق اپنی کارکردگی کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً فٹ بال اور ہاکی میں گول کیپرز ونگرز سنٹر فارورڈز ` اور فل بیک وغیرہ ہوتے ہیں اور کرکٹ میں اوپننگ بیٹسمین ` مڈل آرڈر بیٹسمین ` فاسٹ بالرز ` میڈیم پیسرز ` سپنرز اور آل راﺅنڈرز ہوتے ہیں۔ ٹیم کا ایک کپتان ہوتا ہے جس کو اپنی ٹیم کے ہر کھلاڑی کی صلاحیتوں سے بھرپور واقفیت ہونی چاہئے تاکہ وہ پوری ٹیم کو اس کی اجتماعی صلاحیتوں کے مطابق کھِلا سکے۔ایک چیمپئن ٹیم کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کا ہر کھلاڑی اپنے مخصوص شعبے میں کمال رکھتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ کمال رکھتا ہے بلکہ ہر قسم کے حالات میں اپنے کمال کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت سے بھی مالا مال ہوتا ہے۔ لیکن ایک قابل اور پُر اعتماد کپتان کے بغیر کوئی ٹیم اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔ بالکل اِسی طرح بہترین سے بہترین کپتان بھی کامیابی سے ہم کنار صرف اُسی صورت میں ہوتا ہے کہ اسے اپنے ہر کھلاڑی کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ اور علم ہو۔
میری رائے میں کسی ملک پر حکمرانی کرنے کا معاملہ بھی اسی اصول کے تابع ہے۔ اگر حکومت کے سربراہ کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس نے اپنی ٹیم کے کس کس رکن سے کیا کیا کام لینا ہے ` اور اس کی ٹیم کا کون کون سا رکن کس کس شعبے میں کیا کیا کمال رکھتا ہے ` تو وہ کسی بھی صورت میں اپنے مقاصد کوپورا نہیں کرسکتا۔
ہمارے اکثر لیڈروں کو اپنی ٹیم کی صلاحیتوں کا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کابینہ کی تشکیل کے وقت کسی بھی ” امیدوارِ وزارت “ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے حصے میں کون سی ذمہ داری آنے والی ہے۔
امریکہ کے صدارتی نظام کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس میں کپتان اپنی ٹیم کا انتخاب کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے۔

Scroll To Top