اسمارٹ فون بیٹری سے بھی آپ کی جاسوسی کی جاسکتی ہے، ماہرین

e

سمارٹ فون کی بیٹری آپ کے فون کا مکمل احوال بتاسکتی ہے۔ فوٹو: فائل

ٹیکساس: آپ کے اسمارٹ فون کی بیٹری فون کے راز بہ آسانی فاش کرسکتی ہے بلکہ بیٹری میں استعمال ہونے والی توانائی کی سطح کو دیکھتے ہوئے یہ بھی نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ فون پر کیا لکھا گیا ہے اور کیا کچھ پڑھا گیا۔

ہیکنگ کے ماہرین کے مطابق اگر فون کی بیٹری میں ایک چھوٹا مائیکرو کنٹرولر لگادیا جائے تو فون کی بیٹری سے کرنٹ کو نوٹ کیا جاسکتا جو ہر سرگرمی اور یہاں تک کہ ایک لفظ ٹائپ کرتے ہوئے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد کرنٹ کے بہاؤ کو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) استعمال کرکے معلوم کیا جاتا ہے کہ فون پر کن حروف کے بٹن دبائے گئے ہیں۔ اس طرح ویب سائٹ کے ایڈریس، پاس ورڈز اور کیمرے کے استعمال کے وقت اور تفصیل کا بھی انکشاف کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن اور ہیبریو یونیورسٹی کے سیکیورٹی ماہرین نے اپنے تازہ تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ ہیکرز اسمارٹ فون بیٹری سے بہت کچھ معلوم کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اب جدید فون میں اسمارٹ بیٹریاں لگی ہیں جن کے ذریعے بیٹری کا خرچ اور گنجائش معلوم کی جاسکتی ہے۔ مختلف ایپس بھی بیٹری کی کارکردگی بتاتی رہتی ہیں جو اسمارٹ بیٹری کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔

ماہرین نے ’جھانکنے کی قوت‘ نامی اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ نظری طور پر یہ ممکن ہے کہ ہیکر اور نقب زن کسی بیٹری سے آپ کی تمام معلومات چرا سکیں لیکن اس دوران بیٹری استعمال میں ہو، نہ کہ چارج ہورہی ہو۔

اس کےلیے ضروری ہے کہ بیٹری میں پہلے مائیکرو کنٹرولر لگایا جائے یا خاموشی سے سادہ بیٹری کو مائیکرو کنٹرولر یا ای بیٹری سے تبدیل کردیا جائے۔ پراسرار جاسوس بیٹری ایک کلو ہرٹز تک کے کرنٹ کی آمدورفت کو نوٹ کرسکتی ہے۔

اس کی بدولت فون پر دیکھی، لکھی اور پڑھی جانے والی ہر سرگرمی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہر کام  میں بجلی استعمال ہوتی ہے اور اس کے بننے والے نقوش یہ راز کھول سکتے ہیں۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے مختلف پاس ورڈ اور ٹائپ شدہ الفاظ اور دیگر سرگرمیوں کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

ہیکرز نے اسے ’زہر(پوائزن)‘ بیٹری کا نام دیا ہے جس میں توانائی کا گراف بنتا رہتا ہے۔ پھر ایک سافٹ ویئر فون کا سارا کچا چٹھا کھول دیتا ہے۔ ماہرین نے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ بیٹری پر ہیکر کا ’حملہ عین ممکن ہے، یہ سستا اور آسان عمل ہے جس کے ذریعے بیٹری کے استعمال کا معمولی نمونہ درکار ہوتا ہے۔‘

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے فوری طور پر اس طریقہ واردات کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات کریں کیونکہ ایئرپورٹ پر فون اسکیننگ، الیکٹرونکس مرمت کی دکانوں اور دیگر مقامات پر بیٹری سے بہ آسانی ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top