بھارت کی ایک اور چال

zaheer-babar-logo
یہ حیران کن نہیں کہ بھارت مقبوضہ وادی میں جاری جدوجہد آزادی کو عالمی دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کے لیے سالوں سے نہیں کئی دہائیوں سے کوشاں ہے۔ طویل عرصہ سے چانکیہ سیاست کے پیروکاروں کی کوشش یہی ہے کہ وادی میں حریت کا جذبہ کو انتہاپسندی کے ساتھ جوڈ دیا جائے۔ نائن الیون کے بعد بھارت نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینا شروع کردیا۔ تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ بھارتی ایجنٹ مقبوضہ وادی میں داعش کا وجود ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ عالمی سطح پر کشمریوں کو بدنام کیا جاسکے۔ تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی سیکورٹی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ ایک جھڑپ کے دوران انھوںنے چار ایسے حریت پسندوں کو شہید کیا ہے جن کے بارے میں، ان کا خیال ہے کہ وہ داعش سے وابستہ تھے۔یہ جھڑپ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے سِرہامہ سِری گفوارہ علاقے میں پیش آئی۔ جھڑپ کے دوران ایک ایک پولیس اہلکار اور ایک عام شہری بھی مارا گیا۔
گذشتہ سال سے مقبوضہ وادی میں رجحان بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جب جب بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی کرتی ہے تو شہریوںکی بڑی تعداد اس مقام پر جاکر مظاہرہ کرنا شروع کردیتی ہے گذشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا۔ جھڑپ کے دوران ہی علاقے میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر فوج کے خلاف اور عسکریت پسندوں کے حق میں مظاہرے کئے۔ اس پر بھارتی فوج نے نہتے مظاہرین پر گولی چلادی جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے جن میں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بھارتی پولیس سربراہ شیش پال وید کا کہنا ہے کہ حریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے والے افسر کا یہ دعوی صحیح ہے کہ مارے گئے چاروں مسلح افراد کا تعلق داعش سے تھا اور ان میں تنظیم کا مقامی سربراہ داد احمد صوفی عرف داد سلفی بھی شامل ہے جو”وہ اسلامک اسٹیٹ کے نظریے سے آن لائن متاثر ہوئے تھے”۔قبل ازیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں نئی دہلی کے بعقول اس ضمن میں لوگوں کی طرف سے کئے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں یا مبالغہ آمیز ہیں۔
مقبوضہ وادی میں جاری تشدد کی لہر میں محض چند مہینوں میں درجنوں کشمیری نوجوانوں کا شہید کردیا گیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں عام تاثر یہی ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سوچی سمجھی سکیم تھی تاکہ حریت پسندوں کے خلاف بھرپور کاروائی کا آغاز کیا جاسکے۔ دوسری جانب کشمیری کسی طور پر بھارت کے خوف میں آنے کو تیار ہے۔ وادی کے لوگوں کی دید دلیری کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ سیکورٹی فورسز جس علاقے میں بھی کشمیری حریت پسندوں کے خلاف کاروائی کرتی ہیں فوری طور پر ہی مقامی آبادی احتجاج کرتی باہر آجاتی ہے۔
اہل کشمیر جس طرح اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں جدید تاریخ میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ نریندر مودی جیسے سفاک شخص کے دور اقتدار میں کشمیری قوم کا جذبہ حریت سرد نہ پڑنا بے مثال بھی ہے اور قابل تحیسن بھی۔
درپیش صورت حال میں پاکستان کی زمہ داری بڑھ چکی۔ افسوس کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے کشمیرکمیٹی کی سربراہی ایسی شخصیت کو دی جو دل وجان سے تنازعہ کشمیر کے ساتھ کھڑی ہی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے دوقومی نظریے سے متعلق خیالات واضح نہیں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھی مولانا فضل الرحمن مخصوص خیالات رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن سے کشمیریوں کی اظہار پسندیدگی کا اندازہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ سید علی گیلانی برملا کہہ چکے کہ مولانا کو کشمیر کمیٹی سے ہٹایا جائے۔
پاکستان میں عام انتخابات ہونے جارہے۔ عام کشمیری یہ امید کرسکتا ہے کہ نئی حکومت اہل کشمیر کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے کسی طور پر ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے مظلوم کشمیریوں کے جذبات مجروع ہوں۔ پاکستان کی بنیادی زمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں تنازعہ کشمیر کو نمایاںجگہ دے۔ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر بھرپور آواز بلند کی جائے۔ انفرادی اور گروہی مفادات کی بجائے قومی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے ۔ بھارت سے جنگ کرنے کا کوئی بھی باشعور پاکستانی حامی نہیں البتہ یہ ضرور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پڑوسی ملک سے باوقار انداز میں گفت وشنید کی جائے۔ٹھیک کہا جاتا ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں پڑوسی نہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی سطح پر یہ باور کروائے کہ مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دو ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں کے درمیان وجہ تنازعہ بن رہی ہیں۔
تنازعہ کشمیر ستر سال سے جاری وساری ہے لہذا جنوبی ایشیاءمیں حقیقی امن وامان صرف اسی صورت میں ہوسکتاہے جب اس مسلہ کو حل کرنے کے لیے عالمی طاقتیں زمہ دانہ کردار ادا کریں۔معاشی مفادات اپنی جگہ مگر عالمی طاقتوںکو انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر کسی صورت خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ سی پیک کی شکل میں جنوبی ایشیائی ممالک کو ایسا موقعہ ملا ہے جس کی بدولت وہ اپنے اختلافات حل کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو یقینی طور پر فروغ دے سکتے ہیں۔ظاہر ہے ان تنازعات میں مسلہ کشمیر سرفہرست ہے جس کے سبب پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک چار باضابطہ جنگیں ہوچکیں ہیں۔

Scroll To Top