ایک قوت عوام اور دوسری قوت دشمنوں کی موجودگی ! 27-06-2013

kal-ki-baat
اسلام کے عروج سے پہلے انسانی تہذیب میں جو سلطنتیں کرہ ءارض پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہیں ان میں سب سے اہم نام عراق ` مصر `روم اورایران کے ہیں۔ جب ” عالمی غلبے“ کی اس داستان کو آگے بڑھانے کے لئے فرزندانِ توحید و رسالت کاقافلہ حجاز سے نکلا تو دنیا پر دو سلطنتوں یا ایمپائرز کا غلبہ تھا اور دونوں آپس میں برسرپیکار تھیں۔ میری مراد قیصر و کسریٰ سے ہے۔ یہ دونوں سلطنتیں تقریباً دو صدیوں سے مسلسل آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔ کبھی ایک کو غلبہ حاصل ہوتا تھا تو کبھی دوسری کو۔
اسلام کے ظہور کے بعد ” عالمی غلبہ “ بڑی حد تک مسلمانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور تقریباً دس صدیوں تک دنیائے ہلال کرہ ءارض پر ایک غالب قوت بنی رہی۔
اس کے بعد یورپ اور پھر امریکہ کا دورِ عروج شروع ہوا جوآج تک قائم ہے۔
قوموں کے عروج و زوال پر بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر اس ضمن میں جو ” فکری تصور“ دورِ حاضر کے دو عظیم مملکت سازوں نے دیا ہے وہ اگرچہ ” امن کے نقیبوں “ کو پسند نہیں آئے گا لیکن حقیقت کے قریب ترین ہے۔
نازی جرمنی کے معمار ہٹلر نے 1935ءمیں ایک خطاب کے دوران کہا تھا۔
” جرمن ایک حکمران قوم ہیں۔ جرمنی کو اپنی بالادستی ثابت کرنے کے لئے جس دشمن کی ضرورت ہے وہ اس کے سامنے موجود ہے۔ دشمن کی موجودگی اور اس پر غلبہ پانے کی خواہش سے ہی وہ قوت جنم لیتی ہے جو قوموں کو اوجِ ثریا تک لے جاتی ہے“
دورِ حاضر کے چین کے بانی ماﺅز ے تنگ نے اپنی ایک تصنیف میں لکھا تھا۔
” اگر کسی قوم یا ملک کے سامنے دشمن موجود نہ ہو تو اس کے سامنے نہ تو قوت حاصل کرنے کی امنگ موجود رہتی ہے اور نہ ہی آگے بڑھنے کاجذبہ۔ چین کی ایک قوت اس کے عوام ہیں۔ اور دوسری قوت اس کے دشمن۔“
مجھے یہ بات لکھنے کی ضرورت دیامر کے اس خونی کھیل کی وجہ سے پیش آئی ہے جو محض دہشت گردی کی ایک گھناﺅنی واردات نہیں ہے ` ہمارے لئے قدرت کی طرف سے اس انتباہ کا درجہ بھی رکھتا ہے کہ اپنے دشمنوں کے وجود سے بے خبر یا لاپرواہ رہنا ہمارے لئے تباہی کا باعث بن سکتاہے۔

Scroll To Top