قوم کے اعصاب کے ساتھ کھیلا جانے والا یہ کھیل کب ختم ہوگا؟

aaj-ki-baat-new

بات بڑی آسان اور سیدھی سی ہے۔ قانون کی نظروں میں تمام شہری برابر ہونے چاہئیں۔ اگر قانون کی حفاظت اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے کسی بھی بنیاد پر امتیاز برتیں گے تو یہ عمل بذات خود قانون شکنی کے زمرے میں آجائے گا۔
نیب ایک قانون شکن ادارہ بننے کی شہرت حاصل کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نیب کے چیئرمین نے کہاہے کہ نیب ہیڈکوارٹرز کو بم سے اڑا دینے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ منطق یہ کہتی ہے کہ یہ دھمکیاں ان لوگوں نے دی ہوں گی جن کے خلاف نیب سرگرم عمل ہے یا جو نیب سے کوئی بڑا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ اور منطق یہ بھی کہتی ہے کہ اس قسم کی دھمکیوں کو صرف بیان دینے کی حد تک رکھ کر نظرانداز کرنا کوئی قابلِ تحسین اقدام نہیں۔ اب تک ان نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوجانا چاہئے تھا جنہوں نے دھمکیاں دیں اور ان کی تلاش کا عمل کافی آگے جاچکا ہونا چاہئے تھا۔ چیئرمین نے کرپشن کے خلاف جہاد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرنے کے خوش آئند اقدام کے ساتھ ساتھ یہ ناقابلِ فہم خبر بھی دی ہے کہ اب انتخابات کے اختتام سے پہلے مسلم لیگ )ن)کے صدر شہبازشریف کو اُن سنگین الزامات کے سلسلے میں طلب نہیں کیا جائے گا جن کے مطابق قوم کے اربوں روپوں کی خردبرد ہوئی ہے۔ ایسا اس لئے کیا جائے گا کہ اِن ہائی پروفائل ملزموں کو سیاسی شہید بننے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ بات منطق کے خلاف اور عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ ڈاکہ وہ بھی ہے جو چند افراد کسی گھر پر ڈالتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں۔ اور ڈاکہ وہ بھی ہے جو قومی خزانے پر ڈالا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قوم اربوں کھربوں سے محروم کردی جاتی ہے۔ ایک گھر پر ڈاکہ ڈالنے والے مجرم اگر پکڑے جائیں تو انہیں چند ہفتوں کے لئے اس لئے کھلا نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ اپنے معاملات درست کرلیں۔ پھر اربوں کھربوں کے ڈاکوں میں ملوث ملزم اس قسم کے ریلیف کے مستحق کیسے ہیں جو نیب میاں شہبازشریف کو دے رہی ہے؟ میاں شہبازشریف کو نیب نے سوالات کا جواب دینے کے لئے 25جون کو طلب کیا تھا۔ وہ اس ” طلبی“ کو ہوا میں اڑا کر کراچی چلے گئے۔ بجائے اس کے کہ نیب ان کے اس اقدام پر سخت تر ین کارروائی کرتی اس نے یہ ” خوشخبری “ قوم کو سنا دی کہ ” میاں صاحب انتخابات جیت لیں پھر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔“
اُدھر میاں نوازشریف تہیہ کئے بیٹھے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر اپنے خلاف جاری مقدمات کو اتنی طوالت دے ڈالیں کہ انتخابات گزر جائیں۔9جولائی کو مقدمات مکمل کرنے کی تیسری ڈیڈ لائن بھی ختم ہورہی ہے جو چیف جسٹس نے دی تھی۔ یہ مقدمات اس قدر آسان ہیںکہ ان میں اِتنی دیر لگنی ہی نہیں چاہئے تھی۔ بات صرف اور صرف منی ٹریل کی تھی جو شریف فیملی نے دینا تھا۔ شریف فیملی اس میں بری طرح ناکام ہوگئی۔ میاں صاحب کے فرزندوں نے اپنے آپ کو اشتہاری قرار دلوا لیا۔ مریم صاحبہ نے کہہ دیا کہ میں کیا جانوں اور میاں صاحب کے وکیل صاحب فرما رہے ہیں کہ ان کے موکل حسن و حسین کے والد ہیں ہی نہیں۔
قوم کے اعصاب کے ساتھ کھیلا جانے والا یہ کھیل کب ختم ہوگا؟
نیب ایک قانون شکن ادارہ بننے کی شہرت حاصل کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نیب کے چیئرمین نے کہاہے کہ نیب ہیڈکوارٹرز کو بم سے اڑا دینے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ منطق یہ کہتی ہے کہ یہ دھمکیاں ان لوگوں نے دی ہوں گی جن کے خلاف نیب سرگرم عمل ہے یا جو نیب سے کوئی بڑا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ اور منطق یہ بھی کہتی ہے کہ اس قسم کی دھمکیوں کو صرف بیان دینے کی حد تک رکھ کر نظرانداز کرنا کوئی قابلِ تحسین اقدام نہیں۔ اب تک ان نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوجانا چاہئے تھا جنہوں نے دھمکیاں دیں اور ان کی تلاش کا عمل کافی آگے جاچکا ہونا چاہئے تھا۔ چیئرمین نے کرپشن کے خلاف جہاد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرنے کے خوش آئند اقدام کے ساتھ ساتھ یہ ناقابلِ فہم خبر بھی دی ہے کہ اب انتخابات کے اختتام سے پہلے مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف کو اُن سنگین الزامات کے سلسلے میں طلب نہیں کیا جائے گا جن کے مطابق قوم کے اربوں روپوں کی خردبرد ہوئی ہے۔ ایسا اس لئے کیا جائے گا کہ اِن ہائی پروفائل ملزموں کو سیاسی شہید بننے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ بات منطق کے خلاف اور عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ ڈاکہ وہ بھی ہے جو چند افراد کسی گھر پر ڈالتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں۔ اور ڈاکہ وہ بھی ہے جو قومی خزانے پر ڈالا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قوم اربوں کھربوں سے محروم کردی جاتی ہے۔ ایک گھر پر ڈاکہ ڈالنے والے مجرم اگر پکڑے جائیں تو انہیں چند ہفتوں کے لئے اس لئے کھلا نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ اپنے معاملات درست کرلیں۔ پھر اربوں کھربوں کے ڈاکوں میں ملوث ملزم اس قسم کے ریلیف کے مستحق کیسے ہیں جو نیب میاں شہبازشریف کو دے رہی ہے؟ میاں شہبازشریف کو نیب نے سوالات کا جواب دینے کے لئے 25جون کو طلب کیا تھا۔ وہ اس ” طلبی“ کو ہوا میں اڑا کر کراچی چلے گئے۔ بجائے اس کے کہ نیب ان کے اس اقدام پر سخت تر ین کارروائی کرتی اس نے یہ ” خوشخبری “ قوم کو سنا دی کہ ” میاں صاحب انتخابات جیت لیں پھر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔“

Scroll To Top