ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پاکستان کے لیے خطرہ

از۔۔ ظہیرالدین بابر

یقینا اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کون سے وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوںکو تسلیم نہیں کیا جارہا۔ ہزاروں شہری قربان کرنے اور اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہونے کے باوصف پاکستان بدستور مشکوک ٹھرا۔ اس صورت حال کا بڑا ثبوت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا جاری اجلاس ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار کس حد تک مشکوک ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف اقدمات اٹھانے کے درپرد کوئی ملک بھی ہو اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ چکیں چنانچہ حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ ہوشمندی پر مبنی اقدمات اٹھائے جائیں۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ‘فنانشل ایکشن ٹاسک فورس’ یعنی ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اتوار کو فرانس کے شہر پیرس سے جاری ہے۔ بدقسمتی کے ساتھ جس میں پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جاسکتا جو انتہاپسندی کے خلاف قابل ذکر اقدام نہیں کر رہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس 24 سے 29 جون تک جاری رہے گا اور اس چھ روز اجلاس کے دوران دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے رواں سال فروری میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے وضع کردہ لائحہ عمل کے تحت عالمی سطح پر کئے گئے اقدامات کا جا ئزہ لیا جائے گا۔اس تنظیم کے گذشتہ اجلاس میں مجوزہ ایکشن پلان کے تحت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے پاکستان کو بھی موثر اقدامات کرنے کا کہا تھا ۔ اب اطلاعات ہیں کہ پاکستان کااعلی سطح کا وفد اس جلاس میں شرکت کر کے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو مجوزہ پلان آف ایکشن کے تحت کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرے گا ۔نگران وزیر خزانہ پہلے ہی کہہ چکیںکہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کو روکنے کی کوششوں کو ہر قیمت پر جاری وساری رکھا جائیگا۔ وزیر خزانہ شمشاد اختر کے بعقول منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کو روکنے کے لیے اسٹیٹ بنک، دیگر بنکوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط تعاون کو مزید بہتر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے بعقول حالیہ مہینوں میں پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے وسائل کی فراہمی کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے قوانین پر موثر عمل درآمد کیا گیا ہے۔دراصل ماضی میں جو ہوا سو ہو ا مگر اب اس کا امکان نہیں کہ پاکستان عالمی برداری کے تحفظات کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کرے۔ ملک کی ہر زمہ دار سیاسی ومذہبی جماعت سمجھتی ہے کہ انتہاپسندی کا خاتمہ ملک کی بقا وسلامتی کے لیے لازم ہے۔ ضرب عضب اور پھر ردالفساد کے خلاف شائد ہی کسی نمایاں سیاست دان نے اعتراض اٹھایا ۔ وطن عزیز میں جمہوریت کا سفر جاری وساری ہے۔دوآئینی حکومتیں اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوچکیں اب آئندہ ماہ 25جولائی کو عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا۔ مملکت خداداد پاکستان میں جمہور کی رائے کو اہمیت دی جارہی، ہم سب جانتے ہیںکہ عوام کی اکثریت کبھی انتہاپسند نہیں ہوا کرتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں پاکستان نے دیں دنیا کے کسی بھی ملک کے حصہ میں نہیں آئیں لہذا پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ “پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔ اس میں بھی کسی کو شک نہیںہونا چاہے کہ پاکستان کا مالیاتی کنڑول سسٹم بہت بہتر ہے اور اس کو مزید بہتر کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ۔ پاکستان کے اب تک اٹھائے جانے والے اقدمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں میرٹ پر فیصلہ ہوا تو وہ پاکستان کے اقدامات کو یقینا قبول کرے گا۔
خارجہ امور کے ماہرین باخوبی جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر انصاف کی بالادستی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ بڑی طاقتوں کے مفادات ہی ہیں جو مسلمہ اصولوں کی من ماننی تشریح کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں خارجہ پالیسی میں موجود نقائص کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی گی۔(ڈیک) خارجہ محاذ پر مسلم لیگ ن کی سنجیدگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ میاں نوازشریف ساڈھے چارسال تک وزیر خارجہ کا تقرر ہی نہ کرسکے۔ اس مجرمانہ غفلت کی وجہ کچھ بھی ہو مگر حقیقت یہ ہے اس کے نتیجے میں پاکستان کے پڑوسی ملکوں سے ہی نہیں عالمی برداری سے بھی تعلقات متاثر ہوئے۔ اب صورت حال ہی ہے کہ اگر ایف اے ٹی ایف پاکستان کی طرف سے کئے گئے اقدامات پر مطمئن نا ہوئی اور عالمی تنظیم نے پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کی معیشت اور اس کے مفادات کو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔(ڈیک)
درحقیقت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں بھارت پیش پیش ہے۔ اسے کم سے کم الفاظ میں پاکستان کی ناکامی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے دوست ممالک بھی بھارتی لابی کے بڑی حد تک زیر اثر آچکے۔ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کءمعاملہ کا جا پہنچنا بھی نئی دہلی کی کوششوں کا نمایاں عمل دخل ہوسکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top