گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا نگران حکومت کی کارکردگی پر اظہار عدم اعتماد

  • سندھ میں نگراں حکومت پیپلزپارٹی حکومت کا تسلسل ہے، صوبے میں تبادلے پیپلزپارٹی کے مفاد میں کیے گئے،نگراں وزیر اعلیٰ سندھ غیر جانبدار نہیں
  • تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں موقع فراہم کیے جائیں، صوبے میں کرپٹ افسران کو دوبارہ تعینات کردیا گیا ، پیر پگارا

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس

کراچی(الاخبار نیوز) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے نگراں حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا، جی ڈی اے رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ سندھ میں نگراں حکومت پیپلزپارٹی کی حکومت کا تسلسل ہے۔تفصیلات کے مطابق کنگری ہاو¿س میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا اجلاس منعقد ہوا، جس سے پیر پگارا، ایاز لطیف پلیجو، سردار رحیم، تحریک انصاف کے غوث علی شاہ، ذوالفقار مرزا نے خطاب کیا۔پیرپگارا نے کہا کہ سندھ میں تبادلے پیپلزپارٹی کے مفاد میں کیے گئے، جو حکومت بجلی اور پانی نہیں دے سکی اسے حکمرانی کا اختیار نہیں ہے، پیپلزپارٹی حکومت نے سندھ میں کچرے کے ڈھیر بنادیے، کارکن مقابلے کی بھرپور تیاری کریں۔انہوں نے کہا کہ شفاف الیکشن کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے، نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کو کئی خط لکھے کوئی جواب نہیں ملا، نگراں وزیر اعلیٰ سندھ غیر جانبدار نہیں ہیں، سندھ کا الیکشن کمیشن جانبدار ہے، پنجاب میں ایک اور سندھ میں دوسرا قانون چل رہا ہے، 25 جولائی کو جی ڈی اے الیکشن کے لیے تیار ہے.پیر پگارا نے کہا کہ موجودہ نگراں سیٹ اپ سے امید نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا نگراں حکومت شفاف انتخابات کراسکے، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جیسے موقع فراہم کیے جائیں، سندھ میں کرپٹ افسران کو دوبارہ تعینات کردیا گیا ہے۔سربراہ قومی عوامی تحریک اور جی ڈی اے رہنما ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں نہ پانی ہے نہ بجلی، ترقیاتی بجٹ لوٹ لیا گیا ہے، ا?صف زرداری کی دی گئی لسٹ پر ٹرانسفر تسلیم نہیں ہیں، تمام حلقوں کے امیدوار ا?ج کے اجلاس میں فائنل کررہے ہیں، تحریک انصاف سے سیٹ ایڈجسٹمںٹ کرلی ہے۔ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر وزیروں کے قبضے ہیں، سندھ میں شفاف اور صاف الیکشن چاہئیں، نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو دس دن کا ٹائم دیتے ہیں، ہمارے تحفظات دور نہ ہوئے تو سندھ میں پہیہ جام ہڑتال ہوگی۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ہمیں سندھ میں نگراں سیٹ اپ پر تحفظات ہیں، سندھ کے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، نگراں وزیر اعلیٰ سندھ انتہائی کمزور ہیں، سندھ میں بلدیاتی نمائندے الیکشن مہم چلا رہے ہیں، تمام اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز دئیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمشنر پر ہمارے تحفظات ہیں، وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی الیکشن کمشنر کی موجودگی میں شفاف الیکشن ممکن نہیں، نگراں وزیر اعلیٰ، صوبائی الیکشن کمشنر کا کردار متنازع ہے، جی ڈی اے امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم نہیں کئے جارہے ہیں۔فہمیدہ مرزا نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ شفاف لوگوں کو تعینات کرایا جائے، اینٹی کرپشن محکمے میں کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں، شفاف انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں ا?رہے ہیں۔تحریک انصاف کے رہنما غوث علی شاہ نے کہا کہ دس سال سے بلدیاتی افسر مال بنانے میں مصروف ہیں، سندھ میں شفاف انتخابات کرائے جائیں، اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے ہمارے تحفظات کو دور کیا جائے۔جی ڈی اے رہنما سردار رحیم نے کہا کہ عوام کرپٹ امیدواروں سے رعایت نہ کریں، جی ڈی اے عوام کو انصاف اور روزگار دے گی۔سابق وزیر داخلہ سندھ اور جی ڈی اے رہنما ذوالفقار مرزا نے کہا کہ لوگوں پر جھوٹی ایف ا?ئی ا?ر کٹوائی گئی ہیں اور کسانوں کا پانی بند کیا گیا ہے۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے الیکشن کمیشن کو احتجاجی خط بھیج دیا، خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں نگراں حکومت پیپلزپارٹی کی حکومت کا تسلسل ہے جبکہ نگراں حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔خط کے متن کے مطابق انتظامی عہدوں سمیت پولیس افسران کا تقرر سندھ حکومت نے کیا، نگراں حکومت نے محض تقرر نامے جاری کئے، پنجاب طرز پر سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، پولیس افسران تبدیل کیے جائیں، تبادلے پنجاب کی طرز پر وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے تحت ہونے چاہئیں۔

Scroll To Top