میاں صاحب! اڈیالہ جیل جانے کیلئے تیار رہیں، عمران خان

  • میانوالی میں عظیم الشان جلسہ عام سے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کا آغاز
    چند ہفتوں میں نیا پاکستان بنائیں گے‘قوم مقروض شریف برادران اور بچے ارب پتی‘ نوازشریف اور ان کے بیٹوں سے تین سو ارب روپے کا حساب لینا ہے حکمرانوں نے کرپشن چھپانے کیلئے چالیس ارب روپے کے اشتہارات چھپوائے‘عمران خان
  • حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے پنجاب میں لوٹ سیل لگا رکھی تھی ‘ خواجہ آصف دبئی کی کمپنی سے کس چیز کے ماہانہ 16 لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہے تھے؟‘ن لیگ کے نام نہاد تجربہ کار ٹیم پر کڑی تنقید ‘ آئندہ چند روز میں پارٹی منشور کا اعلان کرنے کا عندیہ
میانوالی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عظیم الشان انتخابی جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں

میانوالی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عظیم الشان انتخابی جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں

میانوالی (الاخبار نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ (ن) لیگ کے دورِ حکومت میں ساری ترقی اشتہاروں میں ہوئی، اشتہاری مہم پر 40 ارب روپے خرچ کیے گئے۔میانوالی میں انتخابی مہم کے آغاز پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران حان نے کہا کہ میں ساری ترقی اشتہاروں میں ہوئی، اشتہاری مہم پر 40 ارب روپے خرچ کیے گئے۔میانوالی میں انتخابی مہم کے آغاز پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران حان نے کہا کہ کس نے کہا تھا کہ اگر لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دینا؟ دونوں شریف بھائیوں نے کہا تھا کہ ہم لوڈ شیڈنگ ختم کریں گے اور شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے تو بجلی بنا دی ہے، اب نگران حکومت جانے اور لو ڈشیڈنگ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ شہباز شریف تم بجلی بنا کر بیگ میں ڈال کر گھر لے گئے ہو؟انہوں نے کہا کہ احسن اقبال کہتے تھے کہ ہم بڑی تجربہ کار ٹیم لے کر آرہے ہیں، ہم ملک کے مسائل حل کریں گے۔ احسن اقبال تمہارے پاس واقعی تجربہ کار ٹیم آئی تھی جس کو چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کرنے کا تجربہ تھا۔ انہوں نے 40ارب کے اشتہار دیئے اور سارے ترقیاتی کام اشتہاروں میں ہوئے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا قرضہ اس قوم پر نہیں چڑھا جتنا یہ دونوں بھائی ملک پر چڑھا کر گئے ہیں۔ آج ڈالر 125 روپے کا ہوگیا ہے، ان کے بچوں کے بچے پیدا ہوتے ہی ارب پتی اور قوم قرضوں میں ڈوب گئے ہے۔ معتبر شکل بناکر جھوٹ بولنے والا بتائے کہ اس کو کس چیز کا تجربہ تھا؟ بتائے کہ کوئی ایک ہی ادارہ انہوں نے ٹھیک کیا ہو؟ اسٹیل مل بند ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جتنا سیاسی شعور آج ہے اس سے قبل نہیں تھا۔ قوم سوچے کہ پانچ سالوں میں انہوں نے کتنا نقصان کیا ہے؟ اب ان کی چوری اور نااہلی کی قیمت عوام مہنگائی اور غربت سے ادا کرے گی۔عمران خان نے کہا کہ یہ کرپشن کرکے عوام کا پیسہ چوری کرتے ہیں اور اس طرح پاکستان کیسے آگے جا سکتا ہے۔ نواز شریف اور ان کے بیٹوں نے تین سو ارب کی کرپشن کا جواب دینا تھا جو پیسہ باہر گیا اور یہ قوم کا پیسہ تھا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے بیٹے باہر بھاگ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس ملک کے شہری ہی نہیں ہیں اس لیے ہم نے جواب نہیں دینا۔عمران خان نے کہا کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پنجاب پر لگے ہوئے۔ میں خواجہ آصف سے پوچھتا ہوں کہ آپ پاکستان کے وزیر دفاع تھے اور دبئی کی ایک کمپنی آپ کو کس چیز کی ماہانہ 16 لاکھ روپے تنخواہ دے رہی تھی؟ یہ ساری ٹیم کرپشن پر لگی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ہفتے میں اپنا منشور پیش کریں گے اور ایسا منشور پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں دیا ہوگا۔ آپ کا ملک آپ کے گھر کی طرح ہے اگر آپ کا خرچ زیادہ اور آمدن کم ہو تو خسارہ بڑھتا جاتا ہے اور بھیک مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں کرتا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملک کے پیسے چوری کرنے سے بچانے کیلئے ہم پولیس، نیب اور ایف آئی اے کو بھی ٹھیک کریں گے۔ شریفوں نے پنجاب کی پولیس کو تباہ کردیا ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ آپ پولیس کو دیکھ کر تالیاں بجایا کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں عوام پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے نکلی تھی۔ پولیس ٹھیک ایسے ہوتی ہے جب آپ پولیس میں میرٹ لے کر آتے ہیں اور سیاسی مداخلت ختم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے اوپر شریفوں نے 32 ایف آئی آرز کاٹی ہوئی ہیں۔ کیا میں شکل سے مجرم لگتا ہوں؟ ڈیڑھ سال ہوگیا ہے نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ میاں صاحب ہم آپ کو نکالنے کی بات نہیں کررہے بلکہ آپ کو اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ قوم کاپیسہ تھا جو آپ ملک سے باہر لے کر گئے۔عمران خان نے کہا کہ جب یہ میرے اوپر پولیس سے ذریعے 32 ایف آئی آرز درج کروا سکتے ہیں تو غریب آدمی کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر وا سکتے۔انہوں نے کہا کہ جب پولیس ٹھیک ہوتی ہے تو امن آتا ہے تو خوشحالی آتی ہے اور لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ آج جب خیبرپختونخواہ میں غربت کم ہوئی ہے تو اس کی وجہ پولیس کا ٹھیک ہونا ہے۔ جب ہم نیا پاکستان بنائیں گے تو نئے ادارے بنائیں گے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ لوگ باہر سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آئیں گے اور ملک ترقی کرے گا۔ آج ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے کیونکہ کوئی ٹیکس نہیں دیتا۔ میں ان پاکستانیوں سے ہی آپ کو ٹیکس اکٹھا کرکے دکھا?ں گا۔ میں اسی پاکستان سے آپ کو 8 ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرکے دکھا?ں گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں اور سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں کیونکہ ان کو حکومت پر اعتبارنہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے نمل یونیورسٹی اس لیے بنائی تھی کہ جب میں میانوالی میں آتا تھا تو نوجوان کہتے تھے کہ ہم بے روز گار ہیں لیکن آج نمل یونیورسٹی میں جیسے ہی طالبعلم ڈگری لیتے ہیں ان کوروز گار مل جاتا ہے۔ اس یونیورسٹی میں پڑھنے والے 80 فیصد اردو میڈیم اسکولوں کے بچے ہیں۔ ہم پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی لگانی ہے۔ ٹیکنیکل اسکول بنائیں گے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔انہوں نے کہا کہ یورپ میں پاکستانی جا کر محنت کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کر جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں لوگ کام کرتے ہیں تو ان کو پیسہ ملتا ہے، بچوں کو مفت تعلیم ملتی ہے اور سرکاری اسپتالوں میں علاج ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں مزدور محنت کرتا ہے تو اتنی مزدوری ملتی ہے کہ اس کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی۔عمران خان نے کہا کہ یبرپختونخواہ میں پولیس کا نظام بہتر ہوا، اسکول بہتر ہوئے، اسپتال بہتر ہوئے اور بلدیاتی نظام بہتر ہوا۔ ہم نے خیبرپختونخواہ میں اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچا۔ کے پی کے میں ہم نے جنگلات لگائے لیکن پنجاب میں انہوں نے تمام جنگلوں کا صفایا کردیا۔انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو کامیابی دی تو ہم سارے پاکستان کو ہر ا کردیں گے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو ان چوروں سے ملک کوبچانے کا موقع دیا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے عوام سے کہا کہ وہ دعا کریں کہ اللہ اس پارٹی کی حکومت لے کر آئے جو غربت ختم کرے، ظالموں کو جیلوں میں ڈالے اور اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرے۔

Scroll To Top