برطانوی اخبار میں نوازشریف کی کرپشن داستان

zaheer-babar-logo
عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے والے مالیاتی سکینڈل پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد ملک کے باشعور حلقوں کو یہ شک وشبہ نہیں رہا کہ طاقتور اور بااثر پاکستانیوں کی اکثریت غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک پیسے منتقل کرنے میں ملوث ہے۔ سیاست دان ہوں یا جاگیر دار ، بیوروکریٹ یا کاروبار حضرات بہت سے اس ناجائز کام میں ملوث ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملکی قانون منی لائنڈرنگ کو روکنے میں موثر ثابت نہیں ہوا حتی کہ وہ تمام سرکاری ادارے جن کی زمہ داریوں میںشامل ہے کہ وہ ملک سے غیر قانونی طور پر پیسے کی منتقلی کو روکیں خود کو بے بس ظاہر کرتے ہیں، وجہ یہ کہ چونکہ اس دھندے میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں لہذا وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔
تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ عدالت عظمی میں جمع کروائی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق مالی سال 2016-2017 کے دوران بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے اپنے انفرادی بنک اکاوئنٹس کے ذریعے 15 ارب ڈالر سے زائد کی رقم بیرون منتقل کی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ایک بڑی رقم ‘ہنڈی’ اور ‘حوالہ’ کے غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھیجی گئی۔اس اہم رپورٹ کا انکشاف سپریم کورٹ کے طرف سے بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے مبینہ اثاثوں کے معاملے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے بعد جاری ہونے والے ایک مختصر حکم نامے میں کیا گیا ۔
بلاشبہ اب یہ راز نہیں رہا کہ قومی سیاست کے بڑے بڑے نام بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار رکھتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف جو تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوچکے اس پر ہرگز نادم نہیں کہ ان کے دوصاحبزادے برطانوی شہری ہونے کے علاوہ وہاں اربوں نہیں کھربوں کا کاروبار کررہے۔ پانامہ لیکس میں نوازشریف کے علاوہ ان کی بیٹی مریم صفدر اور دونوں بیٹوں کے خلاف احتساب عدالت میں کاروائی جاری ہے۔ میاں نوازشریف منی لائنڈرنگ کے اس مقدمہ کو قانونی کی بجائے سیاسی انداز میں لڑرہے ۔ اپنے خلاف سامنے آنے والے ناقابل تردید ثبوتوں کے باوجود میاں نوازشریف مسلسل انکار کررہے۔ ادھر تازہ پیش رفت میں معروف برطانوی اخبار نے سابق وزیراعظم کے لندن فلیٹوں سے متعلق تفصیلی خبر لگائی گی ۔
برطانوی میڈیا بھی نواز شریف کی مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کی داستانیں شائع کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ ادھر عمران خان نے برطانوی اخبار کی رپورٹ سوشل میڈیا پر ڈال دی ۔چئیر مین تحریک انصاف نے قوم کو نواز شریف کی مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ سے متعلق ایک اور داستان پڑھنے کی دعوت دیدی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم پڑھے کہ کیسے کرپٹ حکمرانوں اور انکے خاندانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی دولت پر ڈاکہ ڈالا۔ پی ٹی آئی چیرمین کے بعقول ایون فیلڈ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کا رئیس ترین وزیر اعظم 1993 سے آکر ٹھہرتا ہے۔ دوسری جانب برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم نے چار پرتعیش ترین اپارٹمنٹس پر مشتمل محل تعمیر کیا، نواز شریف کے اس محل کی قیمت تقریبا ستر لاکھ پاونڈز ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس محل میں اپنے دوبیٹوں، صاحبزادی اور داماد کو حصہ دار بنا رکھا ہے، نواز شریف کا محل ان جائیدادوں میں سے ایک ہے جو روسی کے امیر ترین لوگوں کے علاوہ کسی نے کھڑی نہیں کیں، رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں نواز شریف کی جائیدادوں کی مجموعی قیمت تقریبا 32 ملین پانڈز کے برابر ہے۔
درحقیقت قومی میڈیا میں کئی دہائیوں سے ایسی خبریں شائع ہوتی رہیں جس کے مطابق امیر پاکستانی بیرون ملک ایسی جائیدادیں اور کاروبار رکھتے ہیں جنھیں انھوں نے پاکستان میں کبھی ظاہر نہیں کیا۔ عدالت عظمی نے بھی زرائع ابلاغ میں آنے والے ان ہی خبروں کو بنیاد بنا کر نوٹس لیا ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی کے سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بیچ نے بیرون ملک پاکستانیوں کی اثاثوں کی چھان بین کے لیے پاکستان اسٹیٹ بنک کے گورنر طارق باجوہ کے کی سربراہی ماہرین کی ایک 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔چنانچہ کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں عدالت عظمی کو آگاہ کیا کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے بیرون ملک رقوم متنقل کرنے کے لیے بنکنگ چینلز کے علاوہ بعض غیر قانونی طریقوں کو استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں کے مطابق دونوں طریقوں سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے پر منفی اثر پڑا جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہوئی۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک بے شمار پاکستانی ہیں سے بڑی تعداد پاکستان میں رقوم کے منتقلی کے لیے حوالے کا متبادل طریقہ استعمال کرتے ہیں اور اس کو مکمل طور پر روکنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لہذا آنے والی نئی حکومت کے لیے یہ معاملہ کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ گزرے ماہ سال میں پیش آنے والے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوال کو جواب دینا آسان نہیں ایف بی آر، الیکشن کمیشن اور نیب جیسے ادارے آئینی اورقانونی زمہ داریاں ادا کرنے میںکامیاب ہوجائیں گے۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک اپنے آئندہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کی جائے گا یا نہیں جنہوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کے روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے ہیں۔

Scroll To Top