محرومیت سے امارت تک اِک ولولہ انگیز داستان 22-06-2013

kal-ki-baat

محترمہ بے نظیر بھٹو کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر صدر زرداری نے فرمایا ہے کہ محترمہ نے ساری زندگی محروم طبقوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی اور بالآخر جان بھی اسی مقصد کی راہ میں دی۔
اگر زرداری صاحب ” محروم طبقوں “ کی ترکیب پر واضح طور پر روشنی ڈال دیتے تو بہتر ہوتا۔ بادی النظر میں تو یہی نظر آتا ہے کہ زرداری صاحب کا اشارہ جن محروم طبقوں کی طرف ہے اُن میں نمایاں حیثیت رحمان ملک ’ عاصم حسین ’ سید یوسف رضا گیلانی ’راجہ پرویز اشرف ’ توقیر صادق ’ اور اُن تمام اصحاب کی ہے جنہیں ہمارے چیف جسٹس اکثر عدالت عظمیٰ میں یاد فرماتے رہے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ متذکرہ ” محروم “ اشخاص کی ” محرومیت “ جس انداز میں پی پی پی کے دورِ حکومت میں دورہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس امر میں کسی بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہماری تقریباً تمام حکومتوں کے ادوار میں ’ ’ محروم لوگوں “ کی ” محرومیتیں “ بڑی تیزی کے ساتھ دور ہوتی رہی ہیں لیکن جو دور مارچ 2008ءمیں شروع ہوا اور مارچ 2013ءمیں ختم ہوا اس کی مثال تلاش کرنا اس ضمن میں ناممکن ہے۔ اس دور میں ” اوجِ ثریا “ پانے والے لوگ چند برس قبل تک درحقیقت اپنی محرومیتوں پر آنسو بہایا کرتے تھے۔
اس فقید المثال ” گردش ایام “ کا کریڈٹ بہرحال محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہی دیا جانا چاہئے کیوں کہ گزشتہ پانچ برس تک جو حکمرانی ملک پر کی گئی وہ بہرحال اُن کے نام پر ہی کی گئی۔
اس دوران صدر زرداری ببانگ دہل یہ بات کہتے رہے کہ کسی کو بھی ”شہیدبی بی“ کی قبر کا ٹرائل کرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنا یہ دعویٰ سچا ثابت کر دکھایا ۔ اب ”سوئس کیسز“ کا معاملہ بھی قصہ ءپارینہ بن چکا ہے۔

Scroll To Top