اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھیں !

aaj-ki-baat-new

میں اکثر سوچتا ہوں کہ 17ویں گریڈ میں بھرتی ہونے والے ” پبلک سرونٹ “ یا ” سرکاری افسر “ کو اسسٹنٹ کمشنر سے فیڈرل سیکرٹری بننے میں کتنے سال لگتے ہیں ۔ تقریباً تین دہائیاں !ایک نو عمر وکیل یا جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا جسٹس بننے میں کتنا وقت لگتا ہے ۔؟ تقریباً تین ہی دہائیاں ۔ ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ کو فور سٹار جنرل بننے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟ تقریباً تین دہائیاں ۔ تقریباً اتنا ہی وقت ایک ڈاکٹر یا ایک معلم کو اپنے شعبے میں معراج پانے کے لئے لگتا ہوگا۔
ایک شعبہ سیاست کا بھی ہے۔
اس شعبے میں معراج پانے کی اور کوئی خصوصیت نہیں۔ سوائے اس کے کہ آدمی کسی متّمول یا با اثر خاندان میں پیدا ہوا ہو۔ اس کے پاس مطلوبہ وسائل ہوں جو وہ بوقت ضرورت خرچ کرسکے۔
اس ضمن میں آپ ملک کے تمام بڑے بڑے سیاستدانوں کے نام ذہن میں لائیں۔ اگر بات زیڈ اے بھٹو سے شروع کی جائے تو اُن کی اصل کوالیفیکیشن یہ تھی کہ ان کی اہلیہ نصرت بھٹو کے تعلقات حاکمِ وقت سکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سکندر مرزا کے ساتھ اچھے تھے۔
آج کے دور میں آجائیں تو جناب آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کا سارا پس منظر آپ کے سامنے ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ کس کس سیاست دان کی کون کون سی گّدی اور کون کون سی جاگیر ہے۔ یا کون سا سیاست دان کس جنرل کا چہیتا تھا۔
یہ تمام سوالات مجھے یقین ہے کہ آپ کے ذہن میں بھی اٹھتے ہوں گے۔اور آپ بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ ایک لیڈر کے لئے صلاحیتوں قابلیت اور امتحانوں کا لمبا سفر طے کرنا کیوں ضرور ی نہیں۔
کبھی اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ کر ضرور دیکھیں کہ آپ کا کون سا لیڈر ’ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ’ جسٹس افتخار محمد چوہدری ‘ یا بائیسویں گریڈ کے کسی افسر یا کسی فور سٹار جنرل سے زیادہ قابلیت رکھتا ہے۔
ہمارا قومی المیہ آپ کو اسی سوال کے جواب میں مضمر ملے گا!
(یہ کالم 26-06-2013 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top