غلام اکبر ٹویٹر پر!

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔۔۔ اور سوشل میڈیا میں ” ٹوئیٹر“ نے ” فیس بک“ کے ساتھ ساتھ مرکزی حیثیت اختیار کرلی ہے۔۔۔ بڑے بڑے لیڈر اپنی سوچ اور اپنے فیصلوں کو عوام۔۔۔ بلکہ دُنیا تک پہنچانے کے لئے ” ٹوئیٹر‘ ‘ کا استعمال کررہے ہیں۔۔۔ اس کالم کے ذریعے ہفتہ میں دو مرتبہ میرے ٹویٹس قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جائیں گے۔۔۔ ٹویٹ محدود الفاظ میں بات کرنے کا میڈیم ہے۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہر ٹویٹ ایک مختصر کالم ہوتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی ہی مدح سرائی اپنی ہی ثناخوانی اور اپنی ہی شان میں قصیدے پڑھتے پڑھتے جب چودھری نثار ہانپنے لگے تو پانی کا گلاس پیا اور تقریرختم کر دی۔انہوں نے اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو یہ خوشخبری خود نہیں سنائی کہ میاں برادران نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کے سامنے کوئی شیر کھڑا نہیں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو یاد ہو گا کہ اسرائیل کے ایک سابق وزیر اعظم شیرون کو وینٹی لیٹر پر دو برس تک زندہ رکھا گیا تھا۔اس سے پہلے ترکی کے سابق صدر جنرل جمال گرسل اتنی ہی دیر تک وینٹی لیٹر پر زندہ رہے تھے۔کیاسیاسی مقاصد کے لئے قانون قدرت سے لڑنا مناسب رویہ ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان غلط ہیں یا ان پر تنقید کرنے والے اس کا فیصلہ 26 جولائی کو ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے انقلابی دوست افتخار احمدنے موجودہ جمہوری نظام چلانے والوں کی تشبیہہ دہلی کے بادشاہوں اور باقی ہندوستان کے راجواڑوں سے کی تو درست ہے مگر شمال سے مار دھاڑ اور لوٹ مار کرتے آنے والے سلطانوں کا ذکر بڑے تضحیک آمیز انداز میں کیا۔غزنوی غوری اور بابر نہ آتے تو ہم شنکر اور جےرام ہوتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ووٹ کو عزت دو “ کا نعرہ لگانے سے پہلے میاں خاندان نے ووٹ کو جو ذلت دی جس طرح ووٹروں کے خون پسینے کی کمائی کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں،اس کے بعد ان کے اقتدار میں آنے کی واحد صورت یہ رہ جاتی ہے کہ ووٹر اپنی یادداشت کھو بیٹھیں اور باپ بیٹے سے پوچھے:تمہارا نام کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
چودھری نثار کی آج کی باتوں سے لگا کہ انہیں ایک ایسے معجزے کے رونما ہونے کا یقین ہے جو ان کی ذات کو پارٹی کا درجہ دے کر اقتدار میں لے آئے گا۔چونکہ ایسا معجزہ خارج از امکان ہے اس لئے انہیں ایک اچھے جنرل کی طرح فیصلہ کرناچاہیے کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔خود فریبی سے نکلیں حضور!
۔۔۔۔۔۔۔۔
محترمہ آج بقید حیات ہوتیں تو65کی ہوتیں پاکستان یوں شکست و ریخت کا شکار نہ ہوتا۔محترمہ کے آخری نیو ایئر کارڈ میں نے تیار کر کے دسمبر 2007 ءمیں انہیں دئے تھے۔وہ خود نیا سال نہ دیکھ سکیں۔میری آخری گفتگو ان کے ساتھ 1998 میں ہوئی تھی انکے یہ الفاظ مجھے یاد ہیں۔پاکستان میرے خمیر میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زعیم قادری کے اعلا ن بغاوت کے بعد با خبر ذرائع کے مطابق احسن اقبال نے ایک پیغام میں میاں نواز شریف کو یقین دلایا ہے کہ میں آخری دم تک آپ کے بوٹ پالش کرتا رہوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی زندگی بھی وینٹی لیٹر پر ہے۔جیسے ہی عدالت نے وینٹی لیٹر ہٹایا روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے گی۔اللہ کریم بیگم کلثوم کو صحت دے اور عمر دراز کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیگم کلثوم کے ڈاکٹر صرف نواز شریف اور مریم نواز سے پردہ نہیں کرتے اور ان سے بات کر لیتے ہیں ورنہ ابھی تک کسی بندہ بشر نے نہ ان کا چہرہ دیکھا ہے اور نہ آواز سنی ہے۔ایسے شرعی ڈاکٹر کسی اور خوش نصیب کو میسر نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top