بااثر سیاست دانوں سے عوام پوچھ رہے

zaheer-babar-logo

بظاہر 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے بعض امیدواروں کو خاصی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ بالخصوص وہ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی جو دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے نتیجے میںممبران قومی وصوبائی اسمبلی رہے۔سوشل میڈیا پر ایسے وڈیوز سامنے آرہی ہیں جس میں ووٹرز ان سے پانچ سالہ کارکردگی پر سوالات اٹھا رہا ہے ۔ آج سوشل میڈیا انتخابات سے قبل عوام کے ان مسائل کو سامنے لانے کا سبب بن رہا اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی ۔مثلا سندھ کے پسماندہ ضلع کشمور میں پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار سردار سلیم جان کا راستہ روک کر نوجوان ان سے علاقے میں گذشتہ دس برس اور بلخصوص پانچ برس کے دوران ہونے والی ترقیاتی کاموں سے متعلق پوچھتے رہے۔مذکورہ ویڈیو میں بعض نوجوان ووٹر سردار سلیم جان مزاری سے تعلیم کو نظر انداز کرنے اور تعلیم کے حق پر احتجاج کرتے ہوئے علاقے میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ایک اور وڈیو میں ضلع ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ نون کے رہنما سرادر جمال لغاری کے قافلے کا نوجوان راستہ روکتے ہیں اور ان سے علاقے کو نظر انداز کرنے کی شکایت کررہے ہیں۔ وڈیو میں سرادر جمال لغاری کے اس جملے کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ ایک ووٹ کی پرچی۔۔۔وہ بھی اپنے قبیلے کے سربراہ کو دے رہے ہو اور اس پر اتنا ناز۔۔۔آپ اپنے سوال کا جواب لینا بیٹا ۔۔ 25 جولائی کو۔
وطن عزیز میں دوسری بار کسی پارلمینٹ نے اپنی مدت پوری کی ۔ بادی النظر میں یہ دعوی اب درست ثابت ہوتا نظر آرہا ہے کہ اگر نظام چلتا رہے گا تو یقینا اس کے مثبت اثرات ظاہر ہونگے۔ طاقتور سیاست دانوں سے ان کی کارکردگی سے متعلق پوچھا جانا معمولی پیش رفت نہیں۔ جمہوریت میں زمہ داروں سے بازپرس ہونا حیران کن نہیں مگر ہمارے ہاں یہ رجحان خال خال ہی دکھائی دیا۔ کئی دہائیوں سے ہر انتخابات میں جیتنے والے سرداروں اور جاگیرداروں سے ان کے حلقے کے نوجوانوں کا سوالات پوچھنا یقینا امید کی کرن ہے۔
مسلم لیگ ن آنے والے عام انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگارہی ہے ، ایسے میں ووٹروں کو میدان میں آنا اہمیت کا حامل ہے۔ پنجاب میں پی ایم ایل این دس سال سے برسر اقتدار رہی یقینا یہ سوال پی ایم ایل این پوچھا جانا چاہے کہ اس نے ووٹر کو عزت دینے کے لیے کیا اقدمات اٹھائے۔ پی ایم ایل این کے امیدوار جمال لغاری کو بھی سمجھ جانا چاہے کہ الیکڑانک بالخصوص سوشل میڈیا نوجوانوں کو ان کے حقوق سے بہرورکررہا ۔ موجودہ دور میں جمہوریت کا مطلب مخص حصول اقتدار نہیں بلکہ یہ نظام عوامی مسائل حل کرکے ہی اپنا افادیت ثابت کرسکتا ہے۔ سیاسی طور پر طاقتور لوگوں سے جس طرح عام شہری بازپرس کررہے چنانچہ قوی امکان ہے کہ نہتے لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوجائیں۔ ایسے میں متعلقہ اداروں کو اپنی آنکھیں بڑی حدتک کھلنی رکھنا ہونگی۔ یہ اطلاعات بھی ہیں مسلم لیگ ن رہنما سردار جمال لغاری نے راستہ روک کر سوال کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔
اقبالنے کہا تھا کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ۔ کوئی کچھ بھی کرلے جس طرح اہل پاکستان کے دل وماغ میں تبدیلیاں آرہی ہیں ان کو روکنا مشکل نہیںناممکن ہوچکا۔ سچ تو یہ ہے کہ وطن عزیز کے مسائل اس قدر گھبیر ہوچکے کہ ان سے صرف نظر کرنا کسی کے لیے بھی مکن نہیں رہا۔ اہل سیاست کی مجرمانہ غفلت اب اس نہج پر پہنچ چکی کہ آنے والے چند سالوں میں پانی کا بحران سر اٹھانے جارہا۔ کون اس سچائی سے انکار کرسکتا ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں کوئی ایک ڈیم بھی نہیں بنایا جاسکا۔آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب بڑے صوبے کے خادم اعلی سینکڑوں ارب روپے اوریج ٹرین اور میڑو پر لگا چکے مگر اہل پنجاب کو پانی کے بحران سے نہ بچانے کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہے۔ آنے والے عام انتخابات کو اس حوالے سے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کہ اس میں روایتی طور طریقے کام نہیں آنے والے ۔ سیاسی جماعتوں کو اس کا جواب دینا ہوگا کہ وہ آخر عوامی مسائل حل کرنے میںکیونکر ناکام رہیں۔
وطن عزیز میں نوجوان مجموعی آبادی کے بڑے حصے پر مشتمل ہیں، شائد یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف فورمز پر مسائل کے حل کے لیے بات چیت کررہے۔ ایک طرف روزگار ان کی ترجیح ہے تو دوسری جانب وہ بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کے بھی طلب گار ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں نوجوان بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ سیاسی جماعتوں کی بالغ نظری کا امتحان ہے کہ وہ کب اور کیسے پاکستانی نوجوانوں کے زھنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات دیتی ہیں۔ درپیش حالات بارے یہ بھی کہا جارہا کہ قومی سیاست آنے والے دنوں میں مشکل ہوسکتی ہے۔ ستر سالوں کے مسائل چند سالوں میں حل ہونے کا امکان تو نہیں البتہ سمت کا تعین یقینا کیا جاسکتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وطن عزیز کے مسقبل بارے مایوسی پھیلانے والے حلقے بتدریج شکست کھارہے جبکہ روشن اور محفوظ کل کی امید کرنے والوں کے دعوے سچ ثابت ہوتے نظر آرہے۔ سیاست دانوں پر دباو کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ووٹ سے منتخب ہوکر آتے ہیں ایسے میں یہ ان ہی کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاوہ دیگر حکومتی معاملات میں بھی چیک اینڈ بیلنس اور میرٹ کی بالادستی یقینی بنائیں۔

Scroll To Top