امریکہ اور چوہدری نثار کا مشترکہ خوف ! 21-06-2013

kal-ki-baatاگر میرے بس میں ہوتا تو میں کسی ایسے باصلاحیت سراغ رساں یا رپورٹر کی خدمات ضرور حاصل کرتا جو اس راز پر سے پردہ اٹھانے کے لئے ضروری تحقیق یا تحقیقات کرتاکہ چوہدری نثار علی خان کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا سے کیا شکایت یا عناد ہے۔
کچھ عرصہ پہلے چوہدری نثار علی خان کو یقین تھا کہ تحریکِ انصاف اور اس کے سربراہ عمر ان خان کو ایک بڑی سیاسی قوت بننے کے مواقع جنرل احمد شجاع پاشا فراہم کررہے ہیں۔ یہ یقین انہیں اندر سے بھی تھا یا اس کا اظہار وہ صرف ” اطمینانِ قلب “ کے لئے کیا کرتے تھے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مگر کافی دنوں تک ان کے کچھ ایسے بیانات سامنے آتے رہے کہ جیسے 30اکتوبر 2011ءوالے ” جلسہ لاہور “ میں لاکھوں شرکاءکا انتظام خود جنرل مذکور نے اپنی ایجنسی کے اثرو رسوخ کے ذریعے کرایا ہو۔
جنرل پاشا ریٹائر ہوگئے تو چوہدری نثارعلی خان کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ تحریکِ انصاف کا حقیقی عروج جنرل پاشا کے بعد ہوا ہے۔
اب چوہدری نثار علی خان نے وزارت ِ داخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی ایک بار پھر اپنی توپوں کا رخ جنرل پاشا کی طرف کردیا ہے۔
اپنے تازہ ترین بیان میں موصوف نے کہا ہے کہ جنرل پاشا تو چلے گئے مگر آئی ایس آئی اور فوج میں اُن جیسے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ اُن سے جان چھڑانا بھی ضروری ہے۔
کیا یہ بات دلچسپ اور معنی خیز نہیں کہ امریکی حکومت کے خیالات واحساسات بھی جنرل پاشا کے بارے میں کم و بیش ایسے ہی رہے ہیں جیسے چوہدری نثار علی خان کے ہیں۔
امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ پاکستان کی فوج میں کوئی جنرل احمد شجاع پاشا نہ رہے۔ امریکہ (یا چوہدری نثار علی خان )کی یہ خواہش شاید اس لئے پوری نہ ہوپائے کہ ہمارا ہر فوجی کم و بیش اسی سوچ کے سانچے میں ڈھلا ہواہے جس سوچ سے جنرل پاشا جیسے سپاہی جنم لیتے ہیں۔
جنرل پاشا کے نام سے امریکہ کا خوف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن چوہدری نثار علی خان کیوں خوفزدہ ہیں ؟ یہ ہم نہیں جانتے ۔

Scroll To Top