شہبازشریف پارٹی بغاوت روکنے کیلئے سرگرم:چوہدری نثار ‘ زعیم قادری کے بعدبلال یاسین بھی اڑان بھرنے کو تیار

  • این اے 125 کے سوا کسی اور حلقے سے انتخاب لڑنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہوںگا،بلال یٰسین کی دھمکی‘ سابق صوبائی وزیر تعلیم رضا گیلانی بھی ناراض‘این اے 143 میں راو¿ اجمل کو قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار
  • آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران ن لیگ کے بڑے نام قیادت کے خلاف سر اٹھاتے نظر آ سکتے ہیں‘ لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال، رحیم یار خان، بہاولنگر، پاک پتن اور ملتان میں بھی کئی رہنما آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتے ہیں

زعیم قادریلاہور(الاخبارنیوز )مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف وطن پہنچتے ہی پارٹی بچانے کیلئے سرگرم ہوگئے،ممکنہ بغاوت روکنے کیلئے ناراض کارکنوں،پارٹی رہنماﺅں سے ملاقاتیں شروع کردی ہیں، شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس ہوا جس میں زعیم قادری کی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرغور کیا گیا۔لاہور میں اہم حلقوں پر ٹکٹوں میں ردو بدل کا امکان ہے۔ چوہدری نثار، زعیم قادری کے بعد سابق وزیر خوراک بلال یاسین بھی میدان میں آ گئے۔سابق وزیر خوراک اور لاہور کے ن لیگ کے اہم رہنمائ بلال یاسین نے کہا ہے کہ اگر مریم نواز انتخابات میں این اے 125 سے لڑتی ہیں تو میں امیدوار نہیں ہوں گا،ا گر مریم بی بی کسی اور حلقے سے لڑتی ہیں تو پھر میں اپنے حلقے سے امیدوار ہوں گا، اگر کسی کو شوق ہے تو اسی حلقے میں آ کرآزما لے۔ بلال یسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیادت جو فیصلہ کرے گی اس کا پابند ہوں، ماضی میں اسی حلقے سے ممبر قومی اسمبلی رہ چکا ہوں، پہلا حق میرا بنتا ہے۔دوسری جانب سابق صوبائی وزیر تعلیم رضا گیلانی بھی پارٹی سے ناراض ہو گئے۔ انہوں نے 143 میں راو¿ اجمل کو قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پارٹی کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ شاہ مقیم گروپ چاہیے یا راو¿ اجمل ، راو¿ اجمل کو ن لیگ میں میں لیکر آیا لیکن انہوں نے پارٹی کے لیئے کچھ نہیں کیا، اگر کسی نے زبردستی کی تو میں اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گا۔ ٹکٹوں کی تقسیم مسلم لیگ ن کے گلے کی ہڈی بن گئی۔ زعیم قادری کی بغاوت کے بعد پارٹی میںاختلافات شدت اختیار کر گئے۔ذرائع کا کہنا ہے آئندہ 72 گھنٹے کے دوران مسلم لیگ ن کے بڑے نام قیادت کے خلاف سر اٹھاتے نظر آئیں گے۔ لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال، رحیم یار خان، بہاولنگر، پاک پتن اور ملتان میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کئی رہنما آزاد الیکشن لڑ سکتے ہیں۔لیگی قیادت نے اختلافات سے بچنے کیلئے اب مرحلہ وار ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں جو حلقے کلیئر ہیں وہاں ٹکٹ جاری کیے جائیں گے اور اختلافات والے حلقوں میں کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تک انتظار کیا جائے گا۔

Scroll To Top