یہ کیسے ممکن ہے کہ قوم کی رائے کا رخ متعین یا تبدیل کرنے والوں کی اپنی کوئی رائے نہ ہو۔۔۔؟ میرا یہ سوال ارشد شریف سے بھی ہے ۔۔۔

میں یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ جو شخص بھی میڈیا میں ایسی پوزیشن میں ہو جہاں سے وہ عوام کی سوچ اور رائے پر اثر انداز ہوسکے ، وہ خود کوئی رائے ، کوئی سوچ یا کوئی وفاداری نہ رکھتا ہو۔ مثال کے طور پر رﺅف کلاسرا اعلانیہ طور پر یہ سوچ رکھتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے دور رہنا چاہئے اور پاکستان اوربھارت کے درمیان امن کا قیام غیر مشروط ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ ان کی یہ سوچ ان کی سیاسی وفاداریاں پر ضرور اثر انداز ہوتی ہوگی۔ میں یہاں ” سیاسی وفاداریوں “ کا مفہوم واضح کرنا چاہتا ہوں۔ اگلے مہینے عام انتخابات ہورہے ہیں۔ میں ایک باشعور اور ذمہ دار شہری ہونے کی بناءپر اپناحق رائے دہی ضرور استعمال کروں گا۔ دوسرے الفاظ میں میرا ووٹ کسی نہ کسی بیلٹ بکس میں ضرور پڑے گا۔ میں ابھی سے یہ جانتا ہوں کہ میرا ووٹ تحریک انصاف کے امیدوار کے لئے ہوگا۔ میرے خیال میں رﺅف کلاسرا ، ارشد شریف ، عامر متین ، ارشاد بھٹی ، کاشف عباسی ، محمد مالک ، سلمان غنی ، مجیب الرحمان شامی ، ہارون رشید ، حسن نثار ، طلعت حسین ، حامد میر ، شاہ زیب ، عمران خان ، کامران شاہد ، شازیہ ذیشان ، سعدیہ افضال اور کامران خان ۔۔۔۔ سب ہی کو علم ہوگا کہ ان کا ووٹ کہاں جائے گا۔ کس کے حق میں پڑے گا۔
لاری کنگ اور لپ مین نے کبھی نہیں چھپایا تھا کہ وہ ڈیموکریٹ ہیں۔ اور بکانن کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ ری پبلکن ہیں۔
ہمارے ملک میں اکثر ” رائے ساز“ غیر جانبداری کے ڈھونک کے ساتھ کیوں چمٹے رہتے ہیں ؟
اُن کے جھکاﺅ کا علم سننے والوں یا پڑھنے والوں کو ہوتا تو رہتا ہے لیکن یہ ” جھکاﺅ“ اچانک اپنی سمت بھی بدل لیا کرتا ہے۔
چند ہفتے قبل تک جو ” رائے ساز“ پورا زور اس بات پر لگا رہے تھے کہ ” شریف کرپشن “ کا دور اب قصہ ءماضی بن جانا چاہئے۔۔۔ ان ہی رائے سازوں میں کچھ ایسے ہیں جو مختلف حیلوں بہانوں سے رائے عامہ کو عمران خان کے خلاف ابھارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں یہاں پہلے اپنی مثال دوں گا۔
عمران خان کا حامی ہونے کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی پارٹی میں ذمہ داریوں کا تعین کرنے میں غلطیاں کی ہیں جن کی وجہ سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے میں پارٹی کو ایک بحران کا سامنا ہے۔ مگر یہاں میں یہ بات بھی یا د رکھتا ہوں کہ آدمی سے غلطیاں نہ ہوں تو وہ آدمیت کے دائرے سے نکل جاتا ہے۔ عمران خان کی غلطیوں کو اگر میں اس انداز میں اچھالوں کہ اس کا براہ راست فائدہ اُس کرپٹ مافیا کو پہنچے جس سے نجات پانے کی امید میں میں عمران خان کا حامی ہوں ، تو یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہوگی۔۔۔؟
ارشد شریف نے شریف فیملی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے میں نہایت ہی کلیدی اور قابلِ رشک کردار ادا کیا ہے۔ مگر اب انہیں سوتے جاگتے ایک ہی بات پریشان کررہی ہے کہ زلفی بخاری عمران خان کے ساتھ عمرہ کرنے کیوں گیا۔۔۔اگر وہ زلفی بخاری کے مسئلے سے اس لئے چمٹے ہوئے ہیں کہ اُن کی پیشہ وارانہ ” انا “ مجروح ہوئی ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنا فوکس وہ فوراً واپس اس بڑے مقصد پر لائیں جس کے ساتھ اُن کا نام جڑا ہوا ہے۔۔۔

Scroll To Top