”لاہور کسی کے باپ کی جاگیر نہیں “

zaheer-babar-logo
شریف خاندان کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ان کے مخالفین کے بعقول میاں بردارن کی کئی دہائیوں کی سیاست میں پائی جانے والی خرابیاں اب کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ درحقیقت شریف فیملی اس بدلے ہوئے پاکستان کا ادراک کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی جو ہر باشعور شخص کو پوری طرح دکھائی دے رہا۔ حیرت انگیز طور پر پی ایم ایل این کے کرتا دھرتا افراد سمجھ نہیں پارہے کہ یہ نوے کی دہائی نہیں۔ مظلومیت یا پھر محض وعدوں اور نعروں پر لوگ یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اب مخالفین ہی نہیں حامیوں کو بھی کنڑول کرنا مشکل ہوچکا۔ اس کی تازہ مثال مسلم لیگ ن کے رہنما زعیم قادری کی شکل میں سامنے آئی جنھوں نے نے حمزہ شہباز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے جوتے پالش نہیں کر سکتے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرتے زعیم قادری کا کہنا تھا کہ میرے خون میں مسلم لیگ تھی، ہے اور رہے گی، 5 بار پابند سلاسل رہا، ن لیگ میں اہم عہدوں پر رہا ہوں لیکن آج جو عہدوں پر بیٹھے ہیں وہ ہمیں بے وقوف سمجھتے تھے جبکہ حمزہ شہباز کے جوتے پالش نہیں کر سکتا۔“
عام انتخابات کی آمد کے موقعہ پر لاہور شہر سے مسلم لیگ ن کے اندر اختلافات کی خبریں پارٹی کے لیے کسی طور پر نیک شگون نہیں۔زعیم قادری سیاسی طورپر جس طرح شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر حملہ آور ہوئے ہیں بہرکیف اس کے اثرات مرتب ہونگے۔ تسلیم کہ انھوں نے تلخ ماحول میں بھی میاں نوازشریف کی ذات کو نشانہ نہیں بنایا مگر سابق خادم اعلی کے لیے یہ برداشت کرنا آسان نہیں کہ ان کے یا پھر ان کی صاحبزادے کی ذات کو ہدف بنایا جائے۔ اب کی اطلاعات یہی ہیں کہ سارا معاملہ ٹکٹوں کی تقسیم کا ہے۔ زعیم قاردی آج نہیں طویل عرصہ سے مسلم لیگ ن کے اندر یہ شکوہ کرتے رہے کہ قربانیاں دینے کے باوجود انھیں ان کا حق نہیں دیا جارہا۔ یہ شکایت بھی کی گی کہ سابق صدر مشرف کے دور میں صعوبتیں انھوں نے برداشت کیں مگر صلہ کسی اور کو دیا گیا۔
ذعیم قادری نے اپنی پریس کانفرنس میں سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز، لاہور تمہاری اور تمہارے باپ کی جاگیر نہیں،اسی لاہور میں سیاست کرکے دکھاں گا جہاں میرے باپ دادا نے کی اور لاہور میں سیاست کرنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس موقعہ پر زعیم قادری نے آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کے حلقہ 133 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز سنو! میرا الیکشن تمہارے ساتھ ہے جبکہ آج سے الیکشن اور جنگ دونوں اکٹھی ہوگی۔ان کے بعقول الیکشن کی بات نہیں لیکن میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا جبکہ میری سیاست ہو یا نہ ہو، سر نہیں جھکاوں گا۔“
زعیم قادری کی پریس کانفرنس سے قبل سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی مسلم لیگی رہنما کو منانے کی ناکام کوشش کرتے رہے مگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ زعیم قادری کے بعقول خواجہ سعد رفیق میرے بڑے بھائی ہیں لیکن اپنی عزت اور تکریم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
قبل ازیں سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے سینئر مگر ناراض رہنما چوہدری نثار علی خان بھی آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرچکے ۔چوہدری نثار نے 2 قومی اور پنجاب کی 2 صوبائی نشستوں کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا ئے ہیں۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ آئندہ چند روز میں پی ایم ایل این میں سے مذید کتنے لوگ اپنی پارٹی کے خلاف علم بغاوت بلند کرسکتے ہیں۔ یہ حیرت انگیز ہے کہ پی ایم ایل این پنجاب میں تواتر دس سال سے برسر اقتدار ہے مگر اس کی جانب سے اپنے پرانے کارکنوں کی دلجوئی کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گی۔ ایک خیال یہ ہے کہ پنجاب کی حد تک ایسی اطلاعات درست ثابت ہوسکتی ہیں کہ پی ایم ایل این کے بہت سارے سابق اراکین قومی وصوبائی اسمبلی آزاد حثیثت سے الیکشن میں اترنے کا فیصلہ کرلیں۔ میاں نوازشریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ریٹائر کپٹن صفدر کے خلاف احتساب عدالتوں سے فیصلہ آنے میں اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔ شریف فیملی کے نمایاں لوگوں کے جیل جانے کی صورت میں غالب امکان ہے کہ پارٹی مسائل کا شکار ہوجائے۔
دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں جس صوبہ میں بھرپور سیاسی جنگ لڑی جائیگی وہ پنجاب ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار یہ ہوا کہ پنجاب کے ہی دو رہنما یعنی نوازشریف اور عمران خان مد مقابل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ پانچ دریاوں کی سرزمین کے انتخابی دنگل میں اترنے جارہی۔ عمران خان گذشتہ پانچ سالوں میں زیادہ تر پنجاب پر اپنی توجہ مرکوز کرتے رہے۔ یقینا کے پی کے اور پھر اس کے بعد سندھ میں بھی حریف جماعتوں میں سخت مقابلے کی توقع ہے مگر عمومی تاثر یہی ہے کہ جو جماعت بھی پنجاب میں اکثریت حاصل کرلے مرکز میں اقتدار اسے ہی نصیب ہوا کرتا ہے۔ پی ایم ایل این کا معاملہ یہ بھی ہے کہ تواتر کے ساتھ دس سال پنجاب میں براجمان رہنے کے باوجود لوگوں کو بینادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدمات نہ کیے گے ایسے میں زعیم قادری جیسے لوگوں کا علم بغاوت بلند کرنا کسی طور پر مسلم لیگ ن کے لیے مثبت اثرات مرتب نہیں کریگا۔

Scroll To Top