عمران خان کی دعوتِ ہوش ! 20-06-2013

kal-ki-baat
قومی اسمبلی میں عمران خان کی افتتاحی تقریر کا انتظار اُن کے لاکھوں مداحوں کو تھا۔ وہ اس تقریر سے مایوس ہرگز نہیں ہوئے ہوں گے۔ عمران خان نے اپنے خطاب کے آغازمیں ہی یہ بات واضح کردی کہ وہ اس موقع کو اپوزیشن کے ایک لیڈر کے طور پر استعمال نہیں کریں گے بلکہ جو کچھ کہیں گے وہ ایک ایسے پاکستانی کے دل کی آواز ہوگی جس نے کئی دہائیاں قبل جب دیکھنا سننا اور سمجھنا سیکھا تو یہی دیکھا سنا اور سمجھا تھاکہ وہ ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ایک ملک کا شہری ہے لیکن جو آج اپنے ملک کو چاروں طرف سے مسائل مصائب اور بحرانوں میں گھِرا ہوا دیکھ رہا ہے۔
قومی اسمبلی کے کسی اجلاس میں شرکت کے لئے میں ایک عرصے سے نہیں جاسکا تھا۔ مگر 19جون کو ہونے والا اجلاس میرے لئے جذباتی اہمیت کا حامل تھا۔ ٹھیک دوبرس قبل جب ہم (یعنی عمران خان میں اور ہمارے کچھ دیگر ساتھی)ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا دینے کے لئے پشاور جارہے تھے تو مجھے یاد سے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ہمارا یہ سفر ہمارے مشن کے لئے انشاءاللہ سنگ میل میں ثابت ہوگا۔
11مئی 2013ءکو عمران خان کا یہ خواب حقیقت کا خواب دھار گیا۔ مگر قدرت کو منظور یہ بات بھی تھی کہ عمران خان اس صورتحال کا بھی سامنا کریں جو 7مئی کے حادثے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
چنانچہ 19جون کے اجلاس کے موقع پر میں بھی قومی اسمبلی میں موجود تھا ۔ اس موقع پر عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ خان نے مجھ سے پوچھا۔ ”آپ کے خیال میں کساخطاب تھا؟“
” یہ خطاب ایک سیاستدان یا اپوزیشن لیڈر کا نہیں بلکہ ایک محب وطن سٹیٹمین کا خطاب تھا۔ “ میں نے جواب دیا۔
اس ضمن میں خوش آئند بات یہ ہے کہ جواب میں مسلم لیگی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے جو تقریر کی وہ بھی ویسے ہی قومی جذبات اور احساسِ ذمہ داری کی عکاس تھی جن کا اظہار عمران خان نے کیا تھا۔پاکستان آج جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے ان کا تقاضہ ہی یہ ہے کہ وہ قائدین عمائدین اور اکابرین جن کو قوم نے اپنے اعتماد سے نوازا ہے وہ سیاسی مصلحتوں اور پوائنٹ سکورنگ کو بالائے طاق رکھ کر ایک اجتماعی نصب العین ` ایک اجتماعی لائحہ عمل او ر ایک اجتماعی حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کرکے آگے بڑھیں۔ یاد رکھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ 11مئی 2013ءکا دن اب پیچھے رہ گیا ہے اور اس کی تلخیوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے سے کسی بھی لیڈر کا قد بڑا نہیں ہوگا۔

Scroll To Top