اگر ” التوا“ ناگزیر ہے تو اسے انتخابات کے ساتھ ” نتھی“ کیا جانا چاہئے مقدمات کے ساتھ نہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new

نون لیگی حلقوں سے مختلف بیانیوں کے تانے بانے جا ملتے ہیں۔ ان بیانیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر نون لیگی اعلیٰ قیادت کے خلاف جاری مقدمات کو کچھ عرصے کے لئے التوا میں نہ ڈالا گیا تو اِسے ” پری پول“ یعنی قبل از انتخابات دھاندلی تصور کیاجائے گا۔
شریف فیملی زیرِ سماعت مقدمات کو التواءمیں ڈالنا کیوں چاہتی ہے` اسے سمجھنے کے لئے افلاطونی ذہانت کی ضرورت نہیں۔ میاں نوازشریف اپنی تقاریر میں متعدد بار عوام سے یہ اپیل کرچکے ہیں کہ انتخابات میں نون لیگ کو اتنی زیادہ اکثریت کے ساتھ کامیاب کراﺅ کہ وہ اقتدار میں آکر آئین کی وہ تمام شقیں نکال باہر پھینکے جن کی وجہ سے وہ نا اہل قرا ر پائے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نوازشریف عوام میں بالعموم اور اپنی پارٹی کی صفوں میں بالخصوص یہ تاثر قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ نون لیگ اور شریف فیملی پر اقتدار کے دروازے بند نہیں ہوئے۔
گزشتہ دنوں ایک پروگرام میں سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس نون لیگی بیانیے کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔
” اگر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانا مقصود ہے تو زیرِ سماعت مقدمات فی الفور روک دیئے جانے چاہئیں۔ ورنہ بجا طور پر یہ تاثر قائم ہوگا کہ دھاندلی انتخابات سے پہلی ہی ہو چکی ہے۔“
اِس نون لیگی بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا سہارا کھل کر لیا جارہاہے۔
یقینی طور پر بیگم صاحبہ شدید علیل ہوں گی اور ان کی حالت اس قدر تشویشناک بھی ہوگی کہ ان کے میاں اور ان کی بیٹی کا ان کے پاس ٹھہرنا ضروری ہوگا۔ لیکن کیا اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے لئے کسی مستند میڈیکل ٹیم یا بورڈ کا بیان سامنے آنا ان شکوک و شہبات کو دور نہیں کردے گا جو کچھ حلقوں میں بجاطور پر پیدا ہورہے ہیں؟
سچ بولنے کے معاملے میں شریف فیملی کا ریکارڈ نہایت ناقابلِ رشک ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی سیاسی و مالی بقاءکا انحصار سچ کو چھپائے رکھنے میں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لندن کی املاک کی ملکیت قانونی ثابت کرنے کے لئے شریف فیملی ” منی ٹریل“ فوراً سامنے لے آتی اور اسے قطری خط اور خواجہ حارث کی پیشہ ورانہ چالاکیوں پر بھروسہ نہ کرنا پڑتا۔
بیگم کلثوم نواز کی علالت کے بارے میں بدترین شکوک و شہبات یہ ہیں کہ میاں صاحب مقدمات سے دور رہنے کے لئے ” وینٹی لیٹر“ کا سہارا دیر تک لینا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ بیگم صاحبہ کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے میاں کو یہ توفیق بھی دے کہ وہ حقائق کو سامنے لانے کے لئے اپنی صاحبزادی کی ” ٹوئیٹرانہ “ صلاحیتوں پر انحصار نہ کریں اور ان ڈاکٹروں کو سامنے لائیں جو بیگم صاحبہ کا علاج کررہے ہیں۔
جہاں تک مقدمات کو التواءمیں ڈالنے کا معاملہ ہے ` ایسا کرنا ووٹروں کے ساتھ ایک بڑا فریب کرنا ہوگا۔ کیا ووٹروں کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہئے کہ وہ جان سکیں کہ جن لوگوں کو وہ ووٹ دے رہے ہیں وہ بے گناہ ہیں یا قوم کے مجرم۔۔۔؟
اگر” التوائ“ ناگزیر ہے تو اسے انتخابات کے ساتھ ” نتھی“ کیا جانا چاہئے مقدمات کے ساتھ نہیں۔۔۔

Scroll To Top