مقبوضہ وادی کے حالات مذید خراب ہونے جارہے

zaheer-babar-logo
مقبوضہ وادی کی سیاسی صورت حال ایک اور بحران کا پتہ دے رہی ہے۔ کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی حکومت ختم ہونے کے بعد گورنر راج تو لگا دیا گیا مگر اب خیال کیا جارہا ہے کہ حریت پسندوں کے ساتھ ساتھ عام کشمریوں کے خلاف بھی اقدمات میں تیزی لائی جائیگی۔ ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ نئی دہلی میں براجمان بے جے پی سرکار مقبوضہ وادی کے ان علاقوں میں کاروائیوں میں شدت لائے گی جہاں حریت پسند یا ان کے حامی موجود ہیں۔ باخبر حلقوں کا اصرار ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طاقت سے مسائل حل کرنے کی پالیسی نہ ماضی میں کارآمد ثابت ہوئی اور نہ اب اس کا امکان ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت گرجانے کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کرنا عملا سیاسی عمل کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ کہنے کو گورنر راج آئینی اقدام ہے مگر مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں مخصوص معنوں میں دیکھا جارہا۔ سرینگر میں راج بھون یعنی گورنر ہاوس سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کے مطابق بھارت کے صدر رام ناتھ کووند کی طرف سے منظوری ملنے کے فورا بعد گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے آئین کی دفعہ 92 کے تحت ریاستی اسمبلی کو معطل کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کردیا ہے۔
کشمیر کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے حلقوں کا خیال ہے کہ مودی سرکار حالات کو اس نہج پر لے جانے کی پالیسی پر گامزن ہے جس سے واپسی مشکل ہوگی۔ تحریک آزادی کے جواب میں تشدد صرف اور صرف حالات کو مذید گھبیر بنائے گا۔ محبوبہ مفتی سے متعلق بھارتیہ جتنا پارٹی اعلانیہ موقف اختیار کررہی کہ ان کی جماعت کا بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر حریت پسندوں کے ساتھ تعلق تھا۔ بی جے پی سمجھتی ہے کہ سابق وزیر اعلی کشمیر میں ایسا ماحول پیدا کرنے میںکامیاب نہیں ہوسکیں جس کی ان سے امید کی جارہی تھی۔ ادھر محبوبہ مفتی کے قریبی زرائع اس پر اصرار کرتے ہیںکہ بھارتیہ جتنا پارٹی کی طاقت سے مسائل حل کرنے کی پالیسی ان کی مشکلات میں اضافہ کرگی چنانچہ آج حالات ماضی کی نسبت کہیں زیادپیچیدہ ہوچکے۔
حزب الماجدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں کسی طور پر صورت حال نارمل نہیں ہوسکی ۔ برہان وانی کے جنازے میں ہزاروں نہیںلاکھوں افراد شریک ہوئے وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اہل کشمیر میںجذبہ حریت بے مثال انداز میں پھر بیدار ہوچکا۔ سکول کے بچوں اور بچیوںکا بھارتی فوج کو پتھر مارتے ہوئے احتجاج کرنا ہرگز معمولی پیش رفت نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سچ یہی ہو کہ بھارتیہ جتناپارٹی کی اسلام ، پاکستان اور مسلمان دشمنی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی لہذا وہ زمینی حقائق کا جائزہ لینے کی اہلیت سے محروم ہوچکی۔
اپنی حکومت کے خاتمہ پر محبوبہ مفتی کا پاکستان سے بات چیت کرنے کی ضرورت پر ذور دینا اہمیت کا حامل ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ دراصل بھارتیہ جتنا پارٹی اور پی ڈی پی کی پالیسی میں یہی بنیادی فرق ہے کہ محبوبہ مفتی تمام فریقین کو ساتھ لے کر بات چیت کے زریعہ تنازعہ کو حل کرنا چاہتی ہیں جبکہ مودی سرکار کشمیریوں کے جذبہ حریت کو طاقت سے کچلنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ تاریخی طور پر گزشتہ چار دہائیوں کے دوران آٹھواں اور موجودہ گورنر نریندر ناتھ ووہرا کے میعادِ عہدہ کے دوران چوتھا موقع ہے جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ دوہزار انیس میں بھارت میںعام انتخابات ہونے جارہے۔ اس موقعہ پر نریندر مودی کسی طور پر یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کے سامنے سر تسلیم خم کرچکے۔ چنانچہ بھارتیہ جتناپارٹی کی کوشش یہی ہے کہ وہ ممکن حد تک وادی میں بالادست قوت کے طور پر موجود رہے۔ مودی سرکار چاہتی ہے کہ وہ عام انتخابات میں کشمیر کے فاتح کے طور پر میدان میںاترے بھلا اس کی اسے کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔
ادھر کشمیری قیادت یقین رکھتی ہے کہ موجودہ حالات میںان کی صفوں میں کوئی انتشار نہیں۔ بھارتی سیکورٹی فورسز کی آئے روز کی کاروائیوں نے حریت پسندوں کو یکجا کردیا ہے۔ کشمیر میں شائد ہی کوئی ایسی موثر آواز ہو جو بھارتیہ جتنا پارٹی یا نئی دہلی سرکار کے اقدمات کی توثیق کرنے کا رسک لے سکے۔
بھارت پر کسی نہ کسی حد تک یہ دباو موجود ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ افغانستان میں مسائل کا شکار امریکہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان سے مذید تعاون حاصل کرنے کے لیے بھارت بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ یقینا امریکہ بھارت پر ایک حد تک ہی دباو ڈال سکتا ہے۔ دراصل آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات نے بھارت میں غیر یقینی صورت حال پیدا کردی ہے۔ نریندر مودی دوبارہ منتخب ہوکر نئی دہلی میں ہونگے یا نہیں یقین سے کہنا مشکل ہے ، یہی وہ حالات ہیں جس نے مقبوضہ کشمیر میں لگی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔ افسوس اس پر ہے کہ ہندو ووٹروں کے ناراض ہونے کے ڈر سے اپوزیشن جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کھل کر مذمت کرنے کو تیار نہیں۔ آج پورے بھارت میں مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا رسک کوئی بھی پارٹی لینے کو تیار نہیں۔ کانگریس بھی سمجھتی ہے کہ ایک حد سے آگے اس نے اہل کشمیر کے حق میں آواز بلند کی تو اسے اس کا سیاسی طور پر نقصان ہوسکتا ہے۔

Scroll To Top