اگر غداروں پر مقدمے چلانے کی رسم چل نکلی۔۔۔؟ 19-06-2013

kal-ki-baat
پنجاب کے وزیر قانون اور مسلم لیگ (ن)کے ممتاز رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف غدار ہیں اور ان پر مقدمہ ضرور چلے گا۔
پاکستان کے ایک سابق آرمی چیف اور سابق صدر پر غداری کا الزام لگانا بہت بڑ ی بات ہے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ اِس مرتبے کا آدمی غدار نہیں ہوسکتا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ غداری کا ارتکاب اکثر ایسے لوگوں نے کیا جن کے بارے میں گماں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ سے غداری میر جعفر نے کی۔ میسور کی جنگ میں ٹیپو شہید سے غداری میر صادق نے کی۔ کئی صدیاں قبل اہل بغداد سے غداری بغداد کے وزیراعظم ابن علقمی نے کی تھی۔ اس کے بعد مسلمانانِ اندلس سے غداری غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ نے کی۔لیکن اس ضمن میں ہمیں ” غداری “ کی حتمی تعریف ضرور کرلینی چاہئے۔ کیا ہمارے وہ ” اکابرین “ غداری کے زمرے میں نہیں آتے ` جنہوں نے بے انداز قومی سرمایہ غیر ملکی بینکوں میں چھپا رکھاہے۔ یا جنہوں نے اس سرمائے سے بیرون ملک بڑے بڑے کاروبار قائم کررکھے ہیں۔؟
کیا ہمارے وہ سیاسی رہنما غداروں کی صف میں کھڑے نہیں کئے جاسکتے جو بات بات پر طیش میں آکر ہمیں ملک کو توڑ ڈالنے کی دھمکی دیتے ہیں ؟
کیا ہمارے وہ دانشور اور تجزیہ کار غداروں میں شمار نہیں کئے جاسکتے جو اعلانیہ طور پر ملک کی نظریاتی اساس کو چیلنج کرتے ہیں ` اور افواج پاکستان کے خلاف زہرا گلنا جن کا پسندیدہ شیوہ ہے؟غداری کی واضح اوردیانت دارانہ تعریف کئے بغیر ہم غداروں کا درست تعین نہیں کرسکتے ۔ میری حقیر رائے میں تو ہمارے حکومتی اور سیاسی ڈھانچے میں کلیدی اہمیت رکھنے والا ایسا کوئی شخص غداری کے الزام سے نہیں بچ سکتاجس کی نظروں کے سامنے ہمارے ہسپتالوں میں ہزاروں بیمار بچے ناکافی میڈیکل سہولتوں کی وجہ سے بلک بلک کر مرجاتے ہیں مگر جو بیرونی ممالک میں گردش کرنے والی اپنی دولت کا کوئی بھی حصہ واپس اپنے وطن لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
سوچنے کی بات یہاں یہ ہے کہ اگر غداروں پر مقدمے چلانے کی رسم چل نکلی تو ہمیں اپنے ملک کے لئے ” صدر “ اور ” وزیراعظم “ آسانی سے نہیں مل پائیں گے۔۔۔۔

Scroll To Top