غلام اکبر ٹویٹر پر!@akbar62

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔۔۔ اور سوشل میڈیا میں ” ٹوئیٹر“ نے ” فیس بک“ کے ساتھ ساتھ مرکزی حیثیت اختیار کرلی ہے۔۔۔ بڑے بڑے لیڈر اپنی سوچ اور اپنے فیصلوں کو عوام۔۔۔ بلکہ دُنیا تک پہنچانے کے لئے ” ٹوئیٹر‘ ‘ کا استعمال کررہے ہیں۔۔۔ اس کالم کے ذریعے ہفتہ میں دو مرتبہ میرے ٹویٹس قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جائیں گے۔۔۔ ٹویٹ محدود الفاظ میں بات کرنے کا میڈیم ہے۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہر ٹویٹ ایک مختصر کالم ہوتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس اور آرمی چیف سے میری درخواست ہے کہ وہ خود خصوص طور پر قوم کی نمائندگی کرتے ہو? لندن جا کر بیگم کلثوم کی عیادت کریں اور پورا اطمینان کریں کہ مریضہ کو بہترین ڈاکٹروں کی خدمات میسر ہیں یا نہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر مریم نواز نے آئی سی یو سے ٹویٹر پر بیگم کلثوم نواز کی تشویشناک حات کے بارے میں جو آخری بلیٹن جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ بات ان کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے اس لئے دنیا بھر میں کروڑوں نونی ووٹر دعاو¿ں کے لئے ہاتھ اٹھا لیںججوں سے درخواست ہےکہ میرے اگلے بلیٹن کا انتظار کریں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھوٹ اور مکاری کے میدان میں نواز شریف کا ریکارڈ اس قدر شرمناک ہے کہ کچھ لوگ بدقسمتی سے بیگم کلثوم کی تشویشناک حالت کو ویسا ہی ڈرامہ قرار دے رہے ہیں جیسا میاں صاحب نے 2016 مییں اپنے دل کے آپریشن کے حوالے سے کیا تھا۔ہمیں بہر حال بیگم صاحبہ کی فوری اور مکمل صحتیابی کی دعا کرنی چاہیے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ کچھ دودھ کے جلے طرح طرح کی چہ میگوئیاں کر رہے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ نواز شریف اس حد تک گر سکتے ہیں کہ قابل احترام بیگم کلثوم کی بیماری کو سیاسی مقاصدکی تکمیل یا مقدمات کو طول دینے کے لئے استعمال کریں گے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد شریف کی شکل تک بدل گئی ہے۔مگر اس بچارے کے بس کی بات نہیں کہ انتخابات کا ایجنڈہ سیٹ کر سکے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر نواز اور ان کی دختر کو ای سی ایل پر ڈالنا مناسب سٹریٹجی ہوتی تو سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں تھا۔اور میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے جج اور جنرل اتنے بے غیرت ہیں کہ نواز اور مریم سے اتنی گالیاں کھاکر ان کے آلہ کار بن جائیں۔مجھے اپنی عدلیہ اور فوج پر فخر ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصلہ قوم نے یہ کرنا ہے کہ اسے اسی ٹولے کو واپس لانا ہے جو ایک تہائی صدی سے اس قوم پر مسلط ہے اور جس نے ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے یا پھر موجود متبادل کو موقع دینا ہے۔موجود متبادل سیاسی طور پر عمران خان ہیں ورنہ فوج۔کوئی اور ہے تو ہمارے قابل اینکر پرسن اس کی نشاندہی کر دیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسٹس (ر) افتخار چوہدری کا ڈی این اے ٹیسٹ ضروری ہو گیا ہے یہ جاننے کے لئے کہ ان کا تعلق نسل انسانی سے ہی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نون لیگ کا موزال بلند کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پورے نگران سیٹ اپ اور ریاستی اداروں کے کردار کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر دئے جائیں۔یہ کام اےآر وائی نے کیوں سنبھال لیا ہے؟۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی رپورٹرز بڑا اچھا پروگرام ہوا کرتا تھا بھائی بھٹی نے اسے کامیڈی بنا دیا ہے جسے سب سے زیادہ انجوا اس کے ہوسٹ بیرسٹر احتشام کرتے ہیں۔بھائی بھٹی کے بس میں ہو تو نواز کے بیانئے پر آج ہی مہر تصدیق ثبت کرا دیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قابل احترام خاتون۔۔۔آپ نے اپنی تشویشناک بیماری کا کچھ دکھ اپنی دوسری بیٹی کو بھی دیا ہوتا تو ہم میڈیا میں ان کا ذکر بھی سنتے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کےشوق و جنون انقلاب کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگلی حکومت گلو کار جواد اور عائشہ گلیلائی کی ہو گی۔ برابری پارٹی کے چیئر مین گلوکار جواد اے آر وائی کے ایک پروگرام میں فرما رہے تھے کہ نام نہاد بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کو جلسے کرنے تو آتے ہیں مگر ووٹ اب عوام مستحق قیادت کو ہی دیں گے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد شریف کو اچانک کیا ہوا؟پہلے انہوں نے ڈیل(DEAL)کی پھلجھڑی چلائی جس کا مقصد فوج کے کردار کو مشکوک بنانا ہے۔اب انہوں نے زلفی بخاری کو انتخابات کا بنیادی اشو بنا دیا ہے۔دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواز شریف کو پاکستان کا بانی قرار دینے کے حق میں ایک دلیل بہت مضبوط ہے۔پاکستان کو مسلم لیگ نے قائم کیا۔اور چونکہ نواز شریف مسلم لیگ کے قائد ہیں اس لئے پاکستان کے بانی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے نواز شریف نااہل اور باقی سب اہل۔اللہ کا شکر ہے کہ خواجہ نے نواز کو پاکستان کا بانی قرار نہیں دے دیا۔پاکستان ایٹمی طاقت تب بن چکا تھا جب نواز کی سیاسی ولادت نہیں ہوئی تھی۔28مئی کو نواز اپنے وقت کے ممنون حسین تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top