ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی انتقال کرگئے

  • مشتاق یوسفی نے اردو ادب کو نئی پہچان اور بلندی عطا کی،محمد عل، درانی

ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفیکراچی (الاخبار نیوز)ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی 97 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر، 1921ئ کو ہندوستان کی ریاست ٹونک، راجھستان میں پید اہوئے اور آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم-اے کیا جس کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔تقسیم ہند کے بعد کراچی تشریف لے آئے اور مسلم کمرشل بینک میں ملازمت اختیار کی۔ان کی پانچ کتابیں شائع ہوئیں جن میں چراغ تلے (1961ء)، خاکم بدہن (1969ء)،زرگزشت (1976ئ )،آبِ گم (1990ء )،شامِ شعرِ یاراں (2014ئ ) شامل ہیں۔آپ کی ادبی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان نے 1999ء میں ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے تمغوں سے بھی نوازا۔دریں اثناءسابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات محمد علی درانی نے نامور مزاح نگار اور لکھاری مشتاق یوسفی کے انتقال پر گہرے رنج وغم اورافسوس کا اظہارکرتے ہوئے اسے اردو ادب کا بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ بدھ کو اپنے تعزیتی پیغام میں محمد علی درانی نے کہاکہ مشتاق یوسفی نے اردو ادب کو نئی پہچان اور بلندی عطا کی۔یہ ان کے منفرد اسلوب کا کمال ہے کہ اردو نثراب ان کی تحریر کے بغیر نامکمل تصور ہوتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

Scroll To Top