عمران خان کیخلاف تمام اعتراضات مسترد: نواز شریف کے نئے مہرے افتخار چوہدری کو ذلت کا سامنا

  • ریٹرننگ آفیسرز نے ن لیگ کے مہرے کے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے این اے 131 لاہور ، این اے 243کراچی اور این اے 35بنوںکے لئے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے
  • افتخار چوہدری نے اپنے الزامات میں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان ٹائرن سیتا وائٹ کے والد ہونے کے ناطے 62 ون ایف کے تحت نااہل ہوتے ہیں، وہ نہ صادق ہیں نہ ہی امین ہیں لیکن ان کایہ دعویٰ ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا گیا

نواز شریف سپریم کورٹاسلام آباد( الاخبار نیوز ) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جو کہ ریحام خان کی کتاب کا ڈرامہ فلاپ ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نیچا دکھانے کیلئے میدان میں اتارا گیا انہیں آج اس وقت شدید ہزیمت ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب قومی اسمبلی کے تین مختلف حلقوں سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسرز نے میرٹ پر منظور کرلئے اور افتخار چوہدری کے فرسودہ اور گھسے پٹے الزامات کو ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی افتخار چوہدری ہیں کہ جن کی بحالی کیلئے ملک بھر کی وکلاءتنظیموں کےساتھ ساتھ سیاسی رہنماﺅں بشمول عمران خان نے سر دھڑ کی بازی لگا کر مشرف دور میں ان کو بحال کرایا تھا لیکن وہ پاکستانی عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے اور یہ کہ نہ صرف 2013ءکے انتخابات میں وہ نواز شریف کی حمایت میں
سرگرم عمل رہے اور ن لیگ کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار بھی بحریہ ٹاﺅن کے چیئرمین ملک ریاض سے بھاری رقوم بطور رشوت وصول کرنے کے الزامات کا سامنا بھی کر رہے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ن لیگ بالخصوص نااہل وزیر اعظم نواز شریف نے پی ٹی آئی رہنما عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور آئندہ انتخابات میں یقینی کامیابی کے پیش نظر افتخار چوہدری کو عمران خان کے خلاف ذاتی حملوں کے لئے تیار کیا جو کہ انتہائی اخلاقی بدیانتی کا مظہر ہے۔ اپنے الزامات میں افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف سیتا وائٹ کیس کا امریکی عدالت کا فیصلہ ریٹرننگ آفیسرکو جمع کرادیا۔ عمران خان کا دستخط شدہ ڈیکلریشن بھی جمع کرایا گیا جس میں انہوں نے ٹیرن وائٹ کی خالہ کو گارڈین مقرر کیا۔ افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان 62 ون ایف کے تحت نااہل ہوتے ہیں۔ وہ نہ صادق ہیں نہ ہی امین ہیں۔ عمران خان کے ٹائرن سیتا وائٹ کے والد ہونے کے دستاویزات ہم نے پیش کیے۔ ان دستاویزات کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ عمران خان کے دستخط شدہ دستاویز ہمارے پاس موجود ہے جس میں انہوں نے ٹیرن وائٹ کی خالہ کو ان کا گارڈین مقرر کیا تھا۔ علاوہ ازیں عمران خان اور جمائمہ نے تسلیم کیا تھا کہ کیرولین کو بچی کا گارڈین مقرر کرتے ہیں۔ اگر بچی ہمارے گھر آنا چاہے تو اسے گھر لائیں گے۔ قانون شہادت میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ سپیکر کو اس حوالے سے ایک ریفرنس بھیجا گیا تھا۔ اس ریفرنس کا میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ ہماری کوئی ذاتی جنگ نہیں۔ ہم تو یہ سامنے لا رہے ہیں کہ جو شخص مستقبل میں ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے وہ صادق اور امین ہے یا نہیں۔ ہم نے سب کچھ آر او صاحب کے سامنے رکھ دیا اب انہوں نے فیصلہ کرنا ہے۔ لیکن افتخار چوہدری اور ن لیگ کی بدقسمتی کہ یہ تمام الزامات ریٹرننگ آفیسرز نے ردی کی ٹوکری کی نظر کرتے ہوئے عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے جو کہ مخالفین کے منہ پر طمانچہ ہے۔

Scroll To Top