” اللہ ہم سے پہلے ہی کافی ناراض ہے بیٹی۔۔۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ دو کام ایک ساتھ ہوں۔۔۔ اللہ بھی خوش رہے اور ہمارے خزانے بھی بھرے جاتے رہیں۔۔۔“

ہمہ تن گوش کی ڈائری

عید کی نماز کے بعد ہم نے کچھ وقت مہمانوں کی آﺅ بھگت میں گزارا۔۔۔پھر ہم نے اپنی بیانک بیٹریاں آن کیں اور زیادہ دشواری اور انتظار کے بغیر لندن جاپہنچے جہاں ہماری مطلوبہ آواز مصروف گفتگو تھی۔۔۔
” ابا حضور کیا ہمیں واقعی مقررہ وقت پر واپس پاکستان لوٹنا ہوگا۔۔۔؟“
” تمہاری والدہ نے یہ عظیم قربانی ضائع ہوجانے کے لئے نہیں دی مریم۔۔۔ اگر میری جگہ جج بشیر یا خود ثاقب نثار ہوتا اور اس کی اہلیہ وینٹی لیٹر پر ہوتی تو کیا وہ اسے موت کے منہ میں چھو ڑ کر چلا جاتا۔۔۔؟“ یہ میاں نوازشریف کی آواز تھی۔۔۔
”خدا نہ کرے امی جان کو کچھ ہو۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں کہ وینٹی لیٹر پر ہونے کامطلب موت کے منہ میں ہونانہیں۔۔۔ فلموں میں میں نے اکثر لوگوں کو وینٹی لیٹر پر دیکھا ہے۔۔ اور حقیقت میں وہ اچھلے بھلے ہوتے ہیں۔۔۔ “ مریم نے کہا۔۔۔
” یہ تمہارا ہی آئیڈیا ہے۔۔۔ اور تم ہی کل عید کے روز مجھے سمجھا رہی تھیں کہ مجھے اپنے چہرے پر تاثرات ایسے رکھنے چاہئیں کہ لوگوں کے ہاتھ خود بخود کلثوم کی صحتیابی کے لئے دُعا کرنے پر مجبور ہوجائیں۔۔۔ میں نے غمزدگی اپنے آپ پر کچھ زیادہ ہی طاری کی ہوئی تھی کہ ایک دوست آگیا اور پوچھا کہ خدانخواستہ کلثوم بھابی تو اللہ کو پیاری۔۔۔“ میاں صاحب اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ مریم بول پڑیں۔۔۔
” اس کے منہ پر الٹا ہاتھ مارنا چاہئے تھا آپ کو۔۔۔ اللہ کو پیارے ہوں ہمارے دشمن۔۔۔ اللہ کو پیارا ہو یہ بدبخت عمران جسے اگر آپ نے 1992ءمیں ہی کرکٹ کنٹرول بورڈ کا چیئرمین بنایا ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔ اللہ کو پیارا ہو چیف جسٹس جس کا سارا دن ہماری حکومت کی خرابیاں گنوانے میں گزرتا ہے۔۔۔ اللہ کو پیارا ہو جنرل قمر باجوہ جس نے مارشل لاءلگانے کی بجائے ہمیں ذلیل و خوار کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔۔۔ اللہ کو پیاری ہو خلائی مخلوق جو اگر ہمارے مینڈیٹ کی حفاظت بھی اسی جانفشانی سے کرتی جس جان فشانی کا دعویٰ وہ سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے معاملے میں کرتی ہے تو۔۔۔“ مریم ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھیں کہ میاں صاحب بول پڑے۔۔۔
”بس بس بیٹی۔۔۔ یہ جلسہ گاہ نہیں۔۔۔ یہ تقریر لاہور کے جلسہ ءعام کے لئے بہت اچھی رہے گی۔۔۔“
” ابا حضور ۔۔۔ میں ہر رات آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر مثقِ خطاب کرتی رہتی ہوں۔۔۔ اب میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ بے نظیر بھٹو میرے قریب نہیں پھٹک سکتی۔۔۔ اس کی تو اُردو ہی بڑ ی غلط تھی۔۔۔“
” اُردو دان تو ہم بھی نہیں بیٹی۔۔۔ کبھی کبھی تقریر میں ایسا لفظ بولنا پڑتا ہے جو خود میری سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔۔۔ عرفان صدیقی کو سمجھاﺅ کہ ہتھ ذرا ہولا رکھے۔۔۔“
” ابا حضور۔۔۔ امی جان کی قربانی رنگ لائے گی نا۔۔۔؟“ مریم نے اچانک پوچھا۔۔۔
’ ’ ہم جتنا وقت کھینچ سکتے ہیں کھینچیں گے۔۔۔ ہم نے ججوں کے اعصاب سے بھی کھیلنا ہے۔۔۔ جنرلوں کو بھی مخمصے میں رکھنا ہے۔۔۔ او ر عمران پر تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ بھی ختم نہیں ہونے دینا۔۔۔ اب کوئی اور گلیلائی۔۔۔ کوئی اور ریحام خان سامنے لاﺅ۔۔۔ “ میاں صاحب نے جواب دیا ۔۔۔
” اب تو انکل افتخار چوہدری بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔۔۔ کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور برآمد ہوگا۔۔۔ “ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔
” فی الحال وینٹی لیٹر زندہ باد۔۔۔ “ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔۔۔
” مگر ابا حضور۔۔۔ مجھے بڑا ڈر لگتا ہے ۔۔۔ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہوجائے۔۔۔ “ مریم نے کہا۔۔۔
” اللہ ہم سے پہلے ہی کافی ناراض ہے بیٹی۔۔۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ دو کام ایک ساتھ ہوں۔۔۔ اللہ بھی خوش رہے اور ہمارے خزانے بھی بھرے جاتے رہیں۔۔۔“ میاں صاحب نے جواب دیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی ہمارا بیانک رابطہ فضائی شور کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔۔۔

Scroll To Top