طالبان کا جنگ بندی میںتوسیع نہ کرنا حوصلہ شکن

zaheer-babar-logo

علاقائی اور عالمی سطح عید الفطر کے موقعہ پر کابل اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا جانا حیران کن نہیں ۔ عارضی ہی سہی مگر دو دنوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ شائد دہائیوں سے جاری کشت وخون کا خاتمہ ہونے کا کوئی راستہ نکل آئے۔ اس میںدوآراءنہیں کہ افغانستان کے مسلہ کا حل آسان نہیں مگر اسے ناممکن بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اشرف غنی کی حکومت اور طالبان جگنجووں میں عیدالفطر کے موقعہ پر دو دن جنگ بندی کے بعد کابل سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں کئی طالبان آئے اور شہروں میں آزادانہ گھومتے رہے۔ اس موقعہ پر ملکی وغیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے طالبان نے تسلیم کیا کہ وہ بھی ملک کی خاطر نہیں لڑرہے۔ ‘ہم صرف خدا کے لیے لڑرہے ہیں، کسی اور کے لیے نہیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی فنڈنگ نہیں کررہا، ہم پاکستان کے لیے نہیں لڑ رہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہجب تک یہاں امریکہ ہے، ہم لڑتے رہیں گے۔’طالب کمانڈر کا دوٹوک انداز میںکہنا تھا کہ ‘جب تک افغانستان میں غیرملکی افواج موجود ہوں گی، اس وقت تک امن اور صلح کا امکان نہیں ہے۔“
یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ اشرف غنی حکومت یا درپردہ ان کا حمایتی امریکہ کب اور کیسے طالبان کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھائے گا۔ فریقین کے درمیان درپردہ روابط تو ہیں مگر انھیںکسی دیرپا معاہدے کی شکل دینا آسان نہیں۔ افغانستان کے عوام قتل وغارت گری سے بیزار ہوچکے۔ امن کسی بھی معاشرے کی دیرینہ خواہش سمجھی جاتی ہے۔ درحقیقت امن کی بدولت ہی تعمیر وترقی کا ہر خواب شرمندہ تعبیر ہوا کرتا ہے۔ افغانستان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے شہری ہی نہیں بیشتر پڑوسی ملک بھی سلامتی کے ماحول چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ علاقائی طاقتوں میںایک دو اپنے مفادات کے حصول کے لیے جنگ وجدل کے حامی ہوں مگر اکثریت ایسا نہیں چاہتی ۔ درحقیقت آئے روز افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات خطے میں امن وامان کے لیے کوشش کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں امن قائم کرنے کی زمہ داری سب سے زیادہ امریکہ اور طالبان پر عائد ہے۔ اگر فریقین واقعی امن وامان کے قیام میں مخلص ہیں تو انھیں بالاتاخیر بات چیت کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ کچھ لو اور کچھ دوکے تحت ہی افغانستان کے پچیدہ مسائل کا حل ممکن ہے۔
عیدالفطر کے موقعہ پر ہونے والی جنگ بندی میں طالبان رہنما یہ کہتے ہوئے بھی نظر آئے کہ وہ ان اففان فوجیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو غیر ملکیوں کا ساتھ دیں گے۔ طالبان کی جانب سے اعلانیہ یہ پیشکش بھی کی گی کہ اففان فوج امریکہ کا ساتھ دینے کی بجائے ان کی جدوجہد میںان کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ یاد رہے کہ عیدالفطر کے موقعہ پر طالبان کی نے ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر اور سلفیاں بھی بنوائیں۔
ادھر تازہ پیش رفت میں افغان صدر اشرف غنی کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں طالبان کے ساتھ جاری جنگ بندی میں مزید 10 روز کی توسیع کا اعلان کردیا۔ کابل نے افغان طالبان کی جانب سے 17 سال میں پہلی بار جنگ بندی کا اعلان کے اعلان کو خوش آئند قراردیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو جنگ بندی کی حمایت کرنے پر زور دیا۔
دوسری جانب عیدالفطر کے پہلے روز یعنی 16 جون کو افغانستان میں سیز فائر کی خوشی منانے والے افغان طالبان، سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے ہجوم میں خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 26 افراد جان بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
ڈیک)افغان صورتحال پر نگاہ رکھنے والوں کی رائے ہے کہ طالبان کے علاوہ بھی ایسے گروہ سرگرم عمل ہیں جو کسی طورپر امن وامان نہیں چاہتے ۔ یہ بھی ناممکنات میں سے نہیں کہ کل خود طالبان کا کوئی ایک دھڑا الگ ہوکر بات چیت کے عمل سے لاتعلق ہوجائے۔افغان سرزمین میں داعش کی شکل میں پہلے ہی ایسی تنظیم فعال ہے جو طالبان کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بھی نشانہ بنا رہا چنانچہ دولت اسلامیہ کی قتل وغارت گری کی پالیسی کو کب اور کیسے ناکام بناتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔(ڈیک
کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا عمل صبر آزما اور مسائل سے پر ہوسکتا ہے مگر اس کے لیے کسی نہ کسی شکل میں آغاز کرنا چاہے۔ اس پس منظر میں عید الفطر کے دوسرے روز طالبان کا افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی 3 روزہ جنگ بندی کی توسیع کا اعلان نہ کرنا حوصلہ شکن ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ عیدالفطر کے موقعہ پر جنگ بندی پر خوشی منانے والے طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز پر خود کش حملہ کسی کے لیے بھی اچھا پیغام نہیں چنانچہ ضروری ہے کہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔
طالبان جنگجووں کا واضح طور پر پاکستان سے اظہار لاتعلقی اس لحاظ سے خوش آئندہے کہ بھارت اوراس کے ہم خیال طویل عرصہ سے یہ دہائی دیتے چلے آرہے کہ طالبان کا درپردہ حمایتی کوئی اور نہیں پاکستان ہے۔ مگر پاکستان نے ہر موقعہ پر کھل کر اس کی تردید کی ہے کہ افغانستان میں جاری صورتحال میں کسی بھی فریق پر پاکستان کا فیصلہ کن اثر نہیں۔ پڑوسی ملک میں امن وامان کو پاکستان اپنا فائدہ قرار دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پرامن اور جمہوری افغانستان کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو ہر وقت تیار ہے۔

۔

Scroll To Top