اصل دشمنوں کو للکارے بغیر ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے 18-06-2013

kal-ki-baat
پاکستان کے طول و عرض میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے والے دہشت گرد کون ہیں ؟۔ ان کا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے ` لشکر جھنگوی سے ہے یا بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے؟۔ یہ سوالات بالکل رسمی نوعیت کے حامل ہیں ` اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ پاکستان کے دشمن ہیں ` اور وطنِ عزیز کو عدم استحکام کا نشانہ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان میں جو دہشت گردی ہورہی ہے اسے اگر ہمارے اُس پڑوسی ملک کی سرپرستی حاصل نہ ہوتی جسے روزِ اول سے ہی ہمارا وجود میں آنا کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے تو ہم اس پر قابو پانے کے لئے ” سیاست “ اور ” مذاکرات “ کا راستہ کامیابی کے ساتھ اختیار کرسکتے تھے۔ دہشت گردی کا دوسرا محاذہمارے خلاف مبینہ طور پر طالبان اور لشکر جھنگوی نے کھول رکھا ہے اور اس ضمن میں کہا یہ جاتا ہے کہ یہ لوگ اس سرزمین پر بندوق کے زور سے ایک خاص قسم کا انتہا پسندانہ اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی بھی شخص اس سوال کا تسلی بخش جواب دینے کے لئے تیار نہیں کہ ” جو لوگ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بچوں ` عورتوں ` بوڑھوں ` نمازیوں اور بے قصور شہریوں کو اس قدر وحشیانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ` وہ رحمت الالعالمین کے نام لیوا کیسے ہوسکتے ہیں ` اور دنیا بھر کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کے لئے آنے والے دین سے ان کا کیا رشتہ ہوسکتا ہے ۔۔۔؟“
وہ جنگ کبھی جیتی ہی نہیں جاسکتی جس میں آپ کو اپنے حقیقی دشمن کی پہچان نہ ہو اور آپ نے اس کا تعین واضح طور پر نہ کیا ہوا ہو۔
یہ سارے دہشت گرد تو محض کرائے کے قاتل ہیں جنہیں ہمارے اصل دشمن اس جنگ میں ہمارے خلاف استعمال کرر ہے ہیں۔
جب تک ہم اپنے اصل دشمنوں کو نہیں للکاریں گے ` آگ اور خون کا یہ بھیانک کھیل ملک میں جاری رہے گا۔۔۔

Scroll To Top