ہانگ کانگ یونیورسٹی ایڈز کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب

w

ایڈز ایک موذی مرض ہے جو انسانی جسم کا مدافعتی نظام تباہ کردیتا ہے (فوٹو : فائل)

ہانگ کانگ: طبی ماہرین کی تحقیقی ٹیم برسوں کی محنت کے بعد ایڈز کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے ایڈز کا علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یونیورسٹی کے پروفیسر چن ژیوائی کی سربراہی میں ریسرچ ٹیم نے احتیاط اور علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں میں قوت مدافعت میں اضافے کے ذریعے ایڈز کے مرض کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے روٹ میپ تیار کیا ہے۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین نے اس علاج کو فنکشنل ٹریٹمنٹ کا نام دیا جسے چوہوں پر آزمایا گیا اور حیران کن طور پر قوت مدافعت میں اضافے کی وجہ سے چوہوں میں ایڈز کا مرض ختم ہوگیا۔ پروفیسر چن ژیوائی اس طریقہ علاج کے لیے کافی پُر امید نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایڈز کے مریضوں میں قوت مدافعت میں اضافے کے لیے خصوصی دوا تیار کی ہے۔

پروفیسر چن ژیوائی کا کہنا تھا کہ یہ دوا ایڈز کی تمام اقسام میں کارگر ثابت ہوگی جسے کم از کم تین ماہ استعمال کرنا لازمی ہوگا۔ اس دوا سے ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی معدوم ہو جائے گی تاہم ابھی اس دوا کو گلوبل ہیلتھ لیبارٹریزز سے تصدیق ہونا ہے جس کے بعد عالمی ادارۂ صحت سے بھی اس دوا کی تصدیق کرائی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایڈز ایک جان لیوا مرض ہے اور ایچ آئی وی نامی وائرس اس مرض کا موجب ہے۔ یہ وائرس خون کی منتقلی یا پھر غیر ازدواجی جنسی تعلق قائم رکھنے کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ اب تک ایڈز کا واحد علاج احتیاط ہے اور سائنس دان اس مرض کا علاج دریافت کرنے کے لیے تحقیق و تجربات میں مصروف ہیں۔

Scroll To Top