نزولِ قہر الٰہی! 13-06-2013

kal-ki-baat

میں یہ تو ہر گز نہیں کہوں گا کہ ملک کے تمام غنڈوں اور اخلاقی اقدار سے بے نیاز انسان نما جانوروں کو پولیس میں بھرتی کرلیا گیا ہے کیوں کہ پولیس کی وردی میں میں نے بڑے بڑے شریف اور باکردار لوگ بھی دیکھے ہیں ¾ لیکن جو امیج مجھے منگل کے روز ٹی وی سکرین پر دیکھنے کا اتفاق ہوا وہ اس قدر شرمناک اور دل دوز تھے کہ مجھے آج اپنے آپ کو پاکستان کا ایک شہری سمجھتے اور کہتے ہوئے شرمندگی محسوس ہورہی ہے۔
میرے قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ فیصل آباد میں رونما ہونے والے اس واقعے کی طرف ہے جس میں پولیس کے جوانوں نے گھروں میں گھس کر اپنی ماﺅں اور بہنوں کو زدو کوب کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں گندی اور غلیظ گالیوں سے بھی نوازا۔یہ مناظر اس قدر شرمناک تھے کہ میری طرح دوسرے ان گنت لوگوں کو بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ہوگا۔ ایسا تو انگریزوں کے دورِ حکومت میں بھی نہیں ہوا ہوگا۔
ہم فوجی آمریتوں کا ذکر اکثر بڑی حقارت کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن ایک سِول مملکت کو ” پولیس سٹیٹ “ میں تبدیل کرنے کے لئے کسی جنرل کا برسراقتدار آنا ضروری نہیں۔
ہمارے حکومتی کلچر میں پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی روش بری طرح رچ بس چکی ہے۔ پولیس والے اپنے آپ کو قانون کے محافظ نہیں’ کسی حاکم کے تنخواہ دار بدمعاش سمجھنے لگے ہیں۔
خدا کرے کہ فیصل آباد والا واقعہ دوبارہ کہیں بھی نہ دہرایا جائے۔ ورنہ ہمارے حکمرانوں کو اپنے سر شرم سے جھکانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ خدا کا قہر کسی کی اجازت لے کر نازل نہیں ہوگا۔۔۔

Scroll To Top