یہ لوگ زکوٰة کو کیوں بھول چکے ہیں ؟

aaj-ki-baat-new

اگر کوئی بھولا بھالا اور معصوم شخص یہ سوچتا ہے کہ ہمارے نئے بجٹ میں جو 75ارب روپے انکم سپورٹ پروگرام کی مد میں مختص کئے گئے ہیں ’ وہ قومی خزانے پر ایک خوش نما ڈاکے کا درجہ رکھتے ہیں تو وہ شاید کافی حد تک حق بجانب ہو۔ انکم سپورٹ پروگرام کا ڈھکوسلا بے نظیر کے نام کے ساتھ گزشتہ حکومت نے سیاسی مقاصد کے لئے اختیار کیا تھا ۔ اور یہ بات جناب اسحق ڈار کے لئے بہت زیادہ قابلِ فخر نہیں کہ اس ڈھکوسلے کے حقیقی خالق وہ خود کو سمجھتے ہیں۔
ہمارے دین میں زکوٰة کا ایک باقاعدہ مربوط اور منظم نظام موجود ہے۔ اس نظام کا” صوابدیدی خیرات “ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک ” رباّنی فرض “ ہے جس کی ادائیگی کے بغیر کوئی بھی کلمہ گو خود کو حقیقی مسلمان ثابت نہیں کرسکتا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلا کام زکوٰة کی وصولی کو یقینی بنانے کا کیا تھا اور اس کے لئے ریاستی طاقت بھی استعمال کی گئی تھی۔ اگر زکوٰة کی رقم کو ایک مخصوص مقصد کے لئے ریاستی وسائل کا حصہ نہ بنایا جاتا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے یہ کہنے کی پوزیشن میں ہر گز نہ آپاتے کہ ” اگر فرات کے کنارے بھی کوئی کتا تک بھوکا سوئے گا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوگی۔“
میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ہماری حکومتوں نے زکوٰة کے نظام کو کیوں بھلا رکھا ہے۔ اگر وہ اس خدائی نظام کو موثر طور پر فعال بنالتیں تو مجھے یقین ہے کہ مستحقین کی مالی اعانت کے لئے ریاست کے پاس ہر سال کھربوں کی رقم جمع ہوسکتی تھی۔
پھر عوام کی جیب سے نکالے گئے 75ارب روپوں کا ایک خصوصی فنڈ انکم سپورٹ کے نام پر دوسرے غیر اعلانیہ مقاصد کی تکمیل کے لئے قائم کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
انکم سپورٹ فنڈ بنیادی طور پر ایک خیرات ہے جو بظاہر مستحق غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں وزیرخزانہ کو اس سوال کا جواب ضرور دینا چاہئے کہ ملک میں ایسے غریب کتنے ہیں جن کے شب و روز1200ماہوار کے اضافے سے سنور سکتے ہیں ۔ ؟
اگر میں وزیر خزانہ ہوتا یا میرے پاس مختلف مدوں میں رقوم مختص کرنے کا اختیار ہوتا تو میں اس رقم کو بھی ایک صوابدیدی فنڈ میں ڈالنے کی بجائے انرجی یا تعلیم کے شعبے کے لئے وقف کردیتا۔
سیاست دان کبھی اپنے سیاسی اہداف کو نظروں سے دور نہیں رکھ سکتے۔
(یہ کالم اس پہلے 14-6-2013کو شائع ہوا تھا)

Scroll To Top