افغانستان میں قیام امن کی ایک اور کوشش

zaheer-babar-logo
اففانستان کی جنگ وجدل سے بھرپور تاریخ پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ یقین کرنا آسان نہیں کہ پڑوسی ملک میں بات چیت کے زریعہ مسائل حل کرنے کا کارنارمہ سرانجام دیا جاسکتا ہے۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکہ حملہ کی وجوہات کچھ بھی ہوں ایک بات طے ہے کہ اس کے نتیجے میں علاقائی سطح پر پچیدگیوں میں اضافہ ہوا۔ مبصرین کا یہ کہنا بھی قابل غور ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں امن وامان بحال کرنے نہیں آیا بلکہ اس کے کئی اور علاقائی اور عالمی اہداف ہیں چنانچہ افغان صورت حال میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہ رکھی جائے۔ درحقیقت مذکورہ نظریہ ہولناک ہے یعنی کا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ افغانستان میں کشت وخون کا بازار گرم رہے گا اور غیر ملکی افواج بالخصوص امریکہ کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ حالیہ دنوں میں پڑوسی ملک میں جو پیش رفت ہوئی اس سے ایک بار پھر یہ امید پیدا ہوئی کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں افغان مسلہ کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے بارے سوچ وبچار کیا جارہا ہے ۔ مثلا طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اپنے عید پیغام میں ایک مرتبہ پھر امریکا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکام پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنا ہوگی۔ طالبان امیر نے عید پیغام میں کہا کہ وہ جاری جنگ کے زریعہ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ان کے بعقول افغانستان کی بحالی کا واحد راستہ امریکی اور دوسری قابض فورسز کی واپسی ہے تاکہ یہاں آزاد اور اسلامی افغان حکومت ملک کو سنبھال سکے۔
سب جانتے ہیں کہ مذاکرتی عمل میں کچھ لو اور کچھ دو پر یقین رکھا جاتا ہے۔ بات چیت کے زریعہ اختلافات حل کرنے پر یقین رکھنے والا ہر فرد اپنے موقف میں لچک پیدا کرتا ہے۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان سالوں سے جاری جنگ کے بعد یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ لڑائی کسی بھی فریق کے فائدے میں نہیں۔ یعنی نہ امریکہ طاقت کے زریعہ افغانستان میں اپنی یقینی فتح ممکن بنا سکتا ہے اور نہ ہی طالبان گوریلا کاروائیوں کے زریعے واشنگٹن کو شکست دینے میں کامیاب ہونے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ حال ہی میں افغان حکومت طالبان کو جنگ بندی معاہدے کی پیشکش کرچکی جس کے بہرکیف مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اگر طالبان گروپ کی جانب سے سمجھوتے اور مذاکرات کی بات کی گی ہے اور اس کو آگے بڑھانا ہوگا۔ موجودہ حالات میںکسی ایک فریق کی فتح اور شکست کو اہمیت دینے کی بجائے امن اور صرف کو امن کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ کئی دہائیوں سے جنگ کے شکار ملک کے باسیوں کو امید دی جاسکے۔
یقینا امریکا اور طالبان کے براہ راست مذاکرات قیام امن کی راہ میں امید افزا ہوسکتے ہیں۔ طالبان قیادت نے امریکہ کو کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکام پرامن حل پر یقین رکھتے ہین تو انہیں کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعہ آگے بڑھنا چاہیے۔ ادھر یقین سے کہنا مشکل ہے کہ امریکہ ،کابل اور طالبان کے درمیان معاملات کب اور کیسے آگے بڑھتے ہیں۔
افغانستان میں جاری اس عمل میں پاکستان اپنا مثبت کردار نبھا رہا ہے۔ حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزارت خارجہ کے اعلی حکام کے ساتھ افغانستان گے اور اشرف غنی سمیت افغانستان کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اتحادی افواج کے زمہ داروں سے بھی ملے تاکہ جاری پیش رفت میںاپنا مثبت کردار ادا کیا جاسکے۔
ادھر افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ عارضی طور پر جنگ بندی کے اعلان پر امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈپٹی اسسٹنٹ اور قومی سلامتی کونسل میں سینئر ڈائریکٹر برائے وسطی ایشیا لیسا کرٹس کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکا افغان حکام کی طرف سے کام نہیں کرے گا لیکن وہ اس مذاکرات کا حصہ بننا چاہتا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ امریکا کا طالبان سے افغان حکومت کے مذاکرات میں حصہ لینا یوں بھی اہم ہے کہ اس کے نتیجے میں اعتماد کی فضا کو بحال کیا جاسکتا ہے ۔ امریکہ کی مذاکراتی عمل میں شمولیت پر تحفظات اپنی جگہ مگر اس سے انکار نہیں کہ امریکہ افغانستان میں اہم سٹیک ہولڈر ہے جسے کی حثیثت مسلمہ ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کے بعد طالبان کا جواب حوصلہ افزاءہے جس کے بعد یہ بات چیت آگے بڑھائی جائے گی۔ دوسری جانب اشرف غنی کے اعلان کو افغانستان کے بڑے اتحادیوں کی جانب سے گرم جوشی سے خوش آمدید کیا گیا ۔ یاد رہنا چاہے کہ افغان طالبان نے 17 سال میں پہلی متربہ عید الفطر کے پیش نظر 3 دن تک جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن اس جنگ بندی کے دوران غیر ملکی افواج کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔خیال کیا جارہا ہے موجودہ پیش رفت چین اور روس کے درپردہ کردار کے بغیر ممکن نہ تھی۔ خطے کے دونوں اہم ممالک سمجھتے ہیں کہ امریکہ سے کہیں بڑھ کر امن ان کے مفاد میںہے۔ جنگ وجدل جاری رہنا جہاں انتہاپسند عناصر کو تقویت بخش رہا وہی علاقے میں معاشی سرگرمیوںکا مستقبل بھی مخدوش کررہا۔

Scroll To Top