کیا محمد کا خدا ہمارا یہ گناہ معاف کرے گا؟ 15-06-2013

kal-ki-baat
میری آج کی بات اس مقالہ پر مشتمل ہے جو میں نے نظریہ ءپاکستان کونسل کے سیمینار مورخہ 14جون میں پڑھا ملاحظہ فرمائیں۔
سب سے پہلے میں نظریہ ءپاکستان کونسل ٹرسٹ کا بالعموم اور جناب زاہد ملک اور جناب کنور محمد دلشاد کا بالعموم شکریہ ادا کروں گا کہ مجھے دانشوروں اکابرین اور معززین کے اس قابلِ احترام اجتماع سے خطاب کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
یہ موضوع اپنی بسیار سمتی کی وجہ سے اس قدر تفصیلات طلب ہے کہ اس پر گھنٹوں بات کی جاسکتی ہے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے میں اختصارسے کام لوں گا۔
وحشت و بربریت ¾ انسانیت سوز ظلم و جبر اور سفاکانہ نسل کشی کی تاریخ میں تین ادوار خاص طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
نمبر 1۔جب صلیبی نائٹس (Knrghts)نے بیت المقدس پر دوبارہ قبضہ کیا تھا اور شہر کی تمام گلیوں اور شاہراہوں کو مسلمانوں کے خون سے نہلا دیا گیا تھا۔
نمبر2۔جب چنگیزی آندھی صحرائے گوبی سے اٹھی تھی اور چند ہی برسوں میں اس نے وسطیٰ ایشیا میں تہذیب و تمدّن کے تمام مراکز یعنی سمرقند و قوقنداور بلخ و بخار وغیرہ کو انسانی کھوپڑیوں کے میناروں میں تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔
نمبر3۔ جب پندرہویں صدی کے آخر میں سقوطِ غرناطہ کے بعد ہسپانیہ کی سرزمین پر مسلمان ہونا ایک جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ اور شاہ فرڈینڈ ¾ملکہ ازابیلا اور ان کے جانشینوں نے بدنام زمانہ Inquisitionکے زیرِ عنوان انسانی تاریخ میں جبری ترکِ وطن اور سفاکانہ نسل کشی کے سب سے خونیں باب کا اضافہ کیا تھا۔
آج میانمار میں روہنگا مسلمانوں کو جس انسانیت سوز سلوک کا سامنا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے متذکرہ ادوار سے کم اندوہ ناک نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جس دور میں آج ” جرم ِمسلمانی “ کی پاداش میں میانمارکی روہنگا کی آبادی کو مٹایا جارہا ہے ¾ وہ دور انسانی حقوق کی سربلندی کا روشن ترین دور شمار ہوتا ہے۔ اس دور میں اگر خود ہمارے ملک میں کسی ایک عیسائی کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹتی ہے یا اس کے پاﺅں میں کانٹا بھی چبھتا ہے تو محترمہ عاصمہ جہانگیر جیسے دردمندوں کا ایک ہجوم احتجاج کی تصویر بن جاتا ہے۔ لیکن میانمار میں مسلمانوں کے قتلِ عام اور ان کے ساتھ درندگی کے سلوک کو مہینوں گزر چکے ہیں ¾ آج تک ایک بھی احتجاج ہماری ایسی کسی تنظیم کی طرف سے سامنے نہیں آیا جو انسانی حقوق کی علمبردار ہو۔
لیکن ہمیں گلہ صرف مغربی سرمائے سے چلنے اور پلنے والی این جی اوز اور اُن کی روشن خیال قیادتوں سے نہیں ¾ ہماری اپنی حکومت اور ہمارے اپنے سیاسی اکابرین نے بھی وحشت و بربریت کے اس شرمناک کھیل پر آنکھیں بند کررکھی ہیں جو میانمار میں کھیلا جارہا ہے۔
یہاں یہ سوال خود بخود اٹھے بغیر نہیں رہتا کہ کیا ہم واقعی مسلمان ہیں۔
اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو ہم اس خطبے کو کیسے فراموش کرچکے ہیں جس میں آنحضرت نے واضح طور پر توحید و رسالت کے تمام نام لیواﺅں کو ایک امت ۔۔۔اور ایک قوم قرار دیا تھا۔؟ اگر ہمارے آج کے ” نظریہ ہائے قومیت “ درست ہیں تو نعوذ باللہ کیا ہمارے نبی ﷺ کا تصورِ امت غلط تھا۔
میں اس ضمن میں نظریہ ءپاکستان کا ذکر بھی کروںگا۔ یہ عظیم مملکت جس دو قومی نظریہ پر قائم ہوئی تھی اس کے موجد حضرت علامہ اقبال ؒ یا قائداعظم محمد علی جناح ؒ نہیں تھے۔ یہ نظریہ اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز خدا کا آخر ی پیغام خدا کے آخری پیغمبر کے ذریعے بنی نوع انسان پر وارد ہونا شروع ہوا تھا ۔صلح حدیبیہ کے بعدآپ نے جو سفیر دنیا بھر کی اقلیموں کے فرماں رواﺅں کو بھیجے تھے وہ یہی پیغام لے کر گئے تھے کہ پورے کرہ ارض پر حاکمیت اب صرف خدائے بزرگ و برتر کی قائم ہوگی۔
پوری دنیا پر خدا کی حاکمیت قائم کرنے کا مقدس مقصد تو دُور کی بات ہے آج ہم اپنے دینی بھائیوں کو ظلم و ستم اورو حشت و بربریت کے اس شکنجے سے نکالنے کا بھی حوصلہ اور ولولہ نہیں رکھتے جنہیں میانمار میں بدترین حیوانیت اور درندگی کا سامنا ہے۔

Scroll To Top