نندی پور پاور پراجیکٹ میں بدعنوانیوں کی تحقیقات شروع

  • 7 جون کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بینچ نے نندی پور پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نیب کو منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا،جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈی جی نیب نے اب تحقیقات کا حکم دیدیا ہے
  • ادھر قومی احتساب بیورو نے اسپیشل جج سینٹرل کو ایک درخواست میں گرینڈ حیات ہوٹل کیس احتساب عدالت کو منتقل کرنے کی استدعا کی ہے ،جس میں کہا گیا ہے ادارے نے بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر رکھی ہےں اور ملزمان کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں

نندی پور پاور پراجیکٹ

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے نندی پور پاور پراجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔7 جون کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں نندی پور پاور  پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نیب کو منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔بدھ کو نندی پور پاور پراجیکٹ گوجرانوالہ کو آو¿ٹ سورس کرنے میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب نے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کو اس حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ نندی پور پاور پراجیکٹ پنجاب میں گزشتہ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا جس کے ذریعے 525 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے منصوبے میں کرپشن کے الزمات عائد کیے گئے تھے۔دریں اثناء قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے گرینڈ حیات ہوٹل کیس احتساب عدالت کو منتقل کرنے کے لیے درخواست دائر کردی۔اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں گرینڈ حیات کیس احتساب عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ گرینڈ حیات ہوٹل کیس میں نیب نے بدعنوانی کی تحتیقات شروع کی ہوئی ہیں اور اس کیس میں ملزمان کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ یہ کیس بند کرنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر کیپٹن شعیب کی جانب سے استدعا کی گئی، تاہم چیئرمین نیب نے پہلے ہی اس معاملے کو نیب کے سپرد کرنے کے احکامات دیے تھے۔خیال رہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے ) نے 2005 میں شاہراہ دستور پر لگژری ہوٹل کے قیام کے لیے بسم اللہ نیاگرا پیراگون (بی این پی) گروپ کو ساڑھے 13ایکڑاراضی99 سال کےلئے لیز پر دی تھی۔تاہم کمپنی نے ناصرف اراضی کی لیز اور لگڑری ہوٹل کے قیام کے سلسلے میں تمام قواعد و ضوابط تبدیل کیے بلکہ لگڑری ہوٹل کے قیام کے بجائے 2 ٹاورز میں لگڑری اپارٹمنٹس قائم کرکے انہیں فروخت کردیا تھا، جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔اس معاملے پر گزشتہ برس مارچ میں اسلام ا?باد ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں گرینڈ حیات ہوٹل لگڑی رومز کے بجائے لگڑی اپارٹمنٹ کی تعمیر غیر قانونی قرار دی تھی۔بعد ازاں مئی 2017 میں ایف ا?ئی اے کی جانب سے ایف ا?ئی ا?ر درج کی گئی تھی اور سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری، سابق ممبر پلاننگ بریگیڈیئر نصرت اللہ، سابق ممبر فاننس کامران قریشی، سابق رکن ایڈمنسٹریشن شوکت محمد اور سابق رکن انجینئر موئن کاکا کو نامزد کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ سابق ڈائریکٹر ای اسٹیٹ حبیب الرحمٰن گیلانی، سابق پروجیکٹ منیجمنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل اعوان اور بی این پی کے مالک عبدالحفیظ پاشا کو بھی کیس میں نامزد کیا گیا تھا۔تاہم تحقیقات کے دوران ایف ا?ئی اے اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ تحقیقاتی ٹیم کامران لاشاری، کامران قریشی، حبیب الرحمٰن گیلانی کے خلاف دھوکہ دہی، اختیارات کا غلط استعمال، جعل سازی یا نقالی کے الزام ثابت نہیں کرسکی۔جس کے بعد ایف ا?ئی اے نے بسم اللہ نیاگرا پیراگون (بی این پی) گروپ کو ساڑھے 13ایکڑاراضی لیز پر دینے کے معاملے کی تحقیقات روک دی تھیں۔علاوہ ازیں رواں سال مارچ کے دوران نیب کی جانب سے گرینڈ حیات ہوٹل کی تعمیر اور لیز میں بے قاعدگیوں کی تحیقات کا ا?غاز کردیا تھا۔اس تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کو نگراں مقرر کیا گیا تھا۔

Scroll To Top