غلام اکبر ٹویٹر پر!

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔۔۔ اور سوشل میڈیا میں ” ٹوئیٹر“ نے ” فیس بک“ کے ساتھ ساتھ مرکزی حیثیت اختیار کرلی ہے۔۔۔ بڑے بڑے لیڈر اپنی سوچ اور اپنے فیصلوں کو عوام۔۔۔ بلکہ دُنیا تک پہنچانے کے لئے ” ٹوئیٹر‘ ‘ کا استعمال کررہے ہیں۔۔۔ اس کالم کے ذریعے ہفتہ میں دو مرتبہ میرے ٹویٹس قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جائیں گے۔۔۔ ٹویٹ محدود الفاظ میں بات کرنے کا میڈیم ہے۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہر ٹویٹ ایک مختصر کالم ہوتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نون لیگ نے پروپیگنڈہ کے لئے مختلف ونگ بنا رکھے ہیں ہر ایک کو مختلف ٹاسک دیا گیا ہے ایک ونگ کا کام افواہیں گھڑنا اور پھیلا دینا ہے تمام ونگز میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ عمران خان کی کردارکشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے صابر شاکر کے تجزیے سے پورا اتفاق ہے۔عارف حمید بھٹی کے اندر سے ہمیشہ ایک ناراض جذباتی محب وطن بولتا ہے یہ جنگ جالوت کی طاقت کے خلاف ہے جس کی جڑیں پاور سٹرکچر میں بہت گہری ہیںمگر اب جالوت اپنے انجام کے قریب ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان نے اس مرتبہ زیادہ تر ایسے امیدوار میدان میں اتارے ہیں جو انتخابات جیتنے کا تجربہ اور وسائل رکھتے ہوں۔مقصد انتخابات جیتنا ہے،صرف نظریات سے غیرمشروط وابستگی کا اظہار نہیں۔اس نظام خرابی میں حکومت بنا کر ہی نظریات کو جڑ یں پکڑنے کا موقع دیا چا سکتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقین نہیں آتا کہ ڈپٹی منیجر مارکیٹنگ کے طور پر کیریر کا آغاز کرنے والا بے ضرر سا احسن اقبال آج درمیانے درجے کا ڈان بن جائے گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواز شریف تم ماہ رمضان میں اس قدر صفائی اور اعتماد کے ساتھ جھوٹ کیسے بول لیتے ہو؟ نیب اور استغاثہ نے کچھ ثابت نہیں کرنا۔۔ثابت تم نے کرنا تھا اور ہے کہ لندن پراپرٹیز تم نے حلال کمائی سے خریدیں۔تمہارے تمامتر ہتھکنڈوں کے باوجود تم اپنے جرائم کی سزا سے نہیں بچ سکتے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں سروے کرنے والوں کا کاروبار ایکدم تیز ہو گیا ہے۔معقول مال خرچ کر کے آپ اپنی مر ضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔نواز شریف سروے کرانے والوں کو بحفاظت اپنی جیب میں رکھنے کے لئے مشہور ہیں۔ان کی دوسری جیب میں سلمان غنی اور عارف نظامی نسل کے نجومی لائف انجوائے کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top