پاکستان کا چین سے8جدید ترین آبدوزیں خریدنے کا فیصلہ

  • فےصلہ بحری دفاع کو مضبوط بنانے اور بھارتی بحریہ کا موثر اندازمیں مقابلہ کرنے کے پیش نظر کےا گےا ہے ،معاہدہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت ہوا ہے
  • پہلی جدید ترین آبدوز 2022میں دستیاب ہوگی ، سال2022ءکے بعد ہر سال آبدوزیں بحری بیڑے کا حصہ بنےں گی ،دفاعی ذرائع

پاکستان کا چین سے8جدید ترین آبدوزیں خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد( آن لائن ) بحری دفاع کو مضبوط بنانے اور بھارتی بحریہ کا موثر اندازمیں مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان نے چین سے آٹھ جدید ترین آبدوزیں حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی دفاعی پیداوار کے ایک ادارے میں پاک بحریہ کیلئے 8آبدوزوں کی تیاری کا آغاز ہوگیا ہے پاکستان قریبا 5ارب ڈالر کی لاگت سے 8چینی ساختہ آبدوزیں حاصل کریگا، اور اس حوالے سے پاکستان کیلئے چینی ساختہ پہلی جدید ترین ،مہلک آبدوزکی سٹیل کٹنگ کردی گئی ہے یوآن کلاس آبدوز کی سٹیل کٹنگ چند دن پہلے چین میں ہوگئی ہے اور پاک بحریہ کیلئے پہلی جدید ترین آبدوز 2022میں دستیاب ہوگی ، سال2022ءکے بعد ہر سال آبدوزیں بحری بیڑے کا حصہ بنےں گی ، آبدوزوں کی خریداری کادوطرفہ معاہدہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت ہوا ہے اور اس معاہدے کے تحت پاک بحریہ کیلئے 4آبدوزیں چین جبکہ 4پاکستان میں تیار ہوں گی ، پاکستان کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس بحریہ کیلئے 4آبدوزیں تیا رکریگا، یہ آبدوزیں جدید ترین اسلحہ، ٹارپیڈوز، میزائلز سے لیس ہوں گی، آبدوزیں جدید ایئر انڈیپنڈنٹ پرپلشن نظام اور کئی دیگر خوبیاں رکھتی ہیں، دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ آبدوزوں کی شمولیت سے خطے کی طاقتور ترین بحری قوت بن جائیگی اور بھارت جو اپنی بحریہ کے لئے جدید ابدوزیں خرید رہا ہے اور اس پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ بحر ہند میں اپنی اجارہ داری قائم کر سکے اس کا مقابلہ کرنے اور اسے اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہ دینے کے لئے پاک چین بحری دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا رہاہے اور ابدوزوں کی خریداری کا معاہدہ ن لیگ کی حکومت کے دور میں طے پایاتھا

Scroll To Top