نگران وزراءلیگی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈال رہے ؟

zaheer-babar-logo

اب یہ حقیقت بڑی حد تک واضح ہوچکی کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک کو درپیش اہم مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے پانچ سالوں میں ایسی کامیاب کوشش نہیں کی جس پر بجا طورپر اطمنیان کا اظہار کیا جائے۔ اس ضمن میں حالیہ دو مثالیں بڑی واضح ہیں ، ایک یہ کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری وساری ہے اور دوسرا ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔ اس پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف کا یہ مطالبہ غلط نہیںکہ نگران حکومت واضح کرے کہ مسلم لیگ ن ان کے لیے کون سے مشکلات چھوڈ کر گئیں جن کا ان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ پیش رفت میں نگراں وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفرنے کہا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ واضح ہے کہ ہم الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلیں گے، جو حقائق ہیں وہ سب کے سامنے پیش کریں گے اور آئندہ حکومت کے لیے گائیڈ لائن بھی دیں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات علی ظفر کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، ہم ملک میں شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان کی مدد کریں گے۔لوڈشیڈنگ کے بات چیت کرتے ہوئے علی ظفر کا موقف تھا کہ پاکستان میں 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن فنی خرابی کے باعث بجلی کی پیداوار نہیں ہورہی۔ لوڈشیڈنگ کی 4 وجوہات ہیں، جن میں پہلی وجہ طلب اور رسد کا فرق ہے, دوسری وجہ پانی کی قلت ہے، تیسری وجہ ترسیل کے نظام میں خرابی ہے جبکہ چوتھی وجہ بجلی چوری والے علاقوں میں حکومتی پالیسی کے تحت لوڈ شیڈنگ ہونا ہے۔‘
نگران وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے جس طرح لوڈ شینڈنگ کی وجوہات بیان کی گئیں ہیں اس کے نتیجے میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ بڑی حد تک مسلم لیگ ن کی ناکامی پر پر دہ ڈال رہے۔ مذکورہ وجوہات میں کوئی بھی ایسی نہیں جو قدرتی ہو چنانچہ اس پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مسلم لیگ ن چھ مہینے تو درکنا پانچ سالوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا مسلہ حل نہیں کرسکی۔
سوال یہ ہے کہ ملک میں نئے ڈیمز بنانا کس کی زمہ داری تھی۔ پرانے ڈیمز کی صفائی ، ان کی کارکردگی بہتر بنانا اور ان میں پانی کی مقدار پوری کرنا یقینا حکومت کا آئینی اور قانونی فرض تھا۔ پاور پلانٹس بھی میں خرابیاں سب کے سامنے ہیں۔
حکام کے بعقول اس وقت 21 سے 22 ہزار میگا واٹ تک بجلی کی پیداوار ہورہی ہے جبکہ اس کی طلب 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے جس کا مطلب ہے کہ کم ازکم دوہزار میگاواٹ بجلی نظام میں کم آرہی۔ نگراں حکومت سے یہ توقع نہیںکی جاسکتی کہ وہ مسائل حل کردیں مگر یہ بھی ان کا فرض ہے کہ وہ کسی طور پر حقائق عوام سے نہ چھپائیں۔
ماہرین کے بعقول بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھنے کا اس وقت تک فائدہ نہیں ہوسکتا جب تک ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر نہیں کیا گیا۔ یہ یقینا مجرمانہ غلفت ہے کہ 40 برس میں کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں کیاگیا ۔ دوسری جانب آبپاشی کا نظام بھی 100 سالہ پرانا ہے اور اب تک کسی بھی حکومت نے پانی اور بجلی کے ذخائر پر کام نہیں کیا۔
نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ایک فارمولے اور نظام کے تحت ہوتی ہے
شمشاد اختر کے بعقول پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی خلیجی مارکیٹوں سے منسلک ہوتی ہیں، لہذا اس میں رد و بدل ایک حقیقت ہے، جسے دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔“
نگران وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ پیڑولیم مصنوعات کی قیمتون میں اضافہ یا تبدیلی کا فیصلہ مسلم لیگ ن نے نگراں حکومت کے لیے چھوڑ دیا تھا جس کے نتیجے میں انھیں پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل دیگر مہنگائی کا طوفان لاتا ہے مگر افسوس کہ اب تک نگران کیا منتخب حکومت بھی اس کو روکنے میں بری طرح ناکام رہی۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ تادم تحریر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے ایسی جامع حکمت عملی تشکیل نہیںدی جاسکی جس سے لاکھوں نہیں کروڈوں شہریوں کو کسی نہ کسی حد تک کوئی ریلیف ملے ۔ مقام شکر ہے کہ ماضی کے برعکس اب پرنٹ، الیکڑانک اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا کے زریعہ اس حوالے سے آواز بلند کی جارہی ۔ عوامی ہونے کے دعویدار نمائندوں کو باور کروایا جارہا کہ وہ مہنگائی کے مارے لوگوں کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے اپنی زمہ داریوں کا احساس کریں۔
حکام کی اس دلیل کو من وعن تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ بھارت میں اس وقت پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 140، ڈیزل 126 روپے سے زائد ہے اور پاکستان میں پیٹرول 91 اور ڈیزل 105 روپے سے زائد فی لیٹر ہے لہذا نئے اضافہ کو برداشت کیا جائے۔ سمجھ لینا چاہے کہ پڑوسی ملک بھارت میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہم سے کہیں گنا بہتر ہے لازم ہے کہ ہمارے سرکاری زمہ دار اس جانب بھی توجہ مبذول کریں۔درحقیقت عام انتخابات کی آمد آمد کے موقعہ پر تلخ حقائق کا منظر عام پر آنا کئی حوالوں سے قومی سیاست پر اثر ات مرتب کریگا جس کے نتیجے میں تجربہ کار اور پختہ قیادت کی کارستانیاں کھل کر عوام کے سامنے ظاہر ہوسکتی ہیں۔

Scroll To Top