یہ ادارے پاکستان کی شناخت ہیں 12-06-2013

kal-ki-baat
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ اربوں کی رقمیں ہڑپ کرنے والے اداروں کو یا تو ٹھیک کریں گے یا بیچ دیں گے۔
جس پس منظر میں یہ بات کہی گئی ہے وہ یقینا حوصلہ شکن ہے ۔ گزشتہ ” عہدِخرابی “ میں پاکستان کے بعض اداروں نے قومی خزانے پر ناقابلِ برداشت بوجھ بننے کی جو تاریخ رقم کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
بطور خاص میں یہاں پاکستان ریلوے ` پی آئی اے اور پاکستان سٹیل کا ذکر کروں گا۔ ان تینوں اداروں کو بڑی ” کامیابی “ کے ساتھ کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا۔ اس ” ناقابلِ رشک “ کامیابی کے پیچھے جہاں کرپشن اور نا اہلی کی شرمناک داستانیں پوشیدہ ہیں وہاں یہ افسوسناک روایت بھی نظر آتی ہے کہ ہماری ” سیاسی حکومتوں “ نے ان تینوں اداروں کو بنیادی طور پر اپنے” پیاروں “ اور ” پرستاروں “ کوملازمتیں فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا۔ تینوں کے تینوں ادارے سیاسی کارکنوں سے بھر دیئے گئے۔
لیکن ایسے اہم قومی اداروں کو بیچ ڈالنا میاں نوازشریف کے سامنے ایک آپشن نہیں ہوناچاہئے۔
دیوالیہ تو پورے پاکستان کو بھی بنایا جاچکا ہے۔ تو کیا ہم یہ سوچنا شروع کردیں کہ پاکستان کو بیچ ڈالا جائے۔؟
پاکستان ریلوے ` پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن اور پاکستان سٹیل ۔۔۔ تینوں کو پاکستان کی شناخت کا درجہ حاصل ہے۔ مورّخ جب بھی یہ فیصلہ کریں گے کہ میا ں نوازشریف اپنے تعمیر نو کے دعوﺅں میں کس حد تک کامیاب ہوئے تو وہ اپنے سامنے مثالیں پاکستان ریلوے ` پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن اور پاکستان سٹیل کی ہی رکھیں گے۔۔۔

Scroll To Top