آج کا کراچی بھی مجّسم فریاد ہے جو باتیں میں نے 5برس قبل لکھی تھیں وہ آج بھی درست ہیں

aaj-ki-baat-new
انتخابات ہوچکے۔ اقتدار کی منتقلی نہایت پرامن اور جمہوری انداز میں مکمل ہوچکی۔ کہنے کو تمام صوبوں اور پورے ملک میں ایسی باضابطہ منتخب آئینی حکومتیں اقتدار کی مسند پر فائز ہوچکی ہیں جنہیں عوام کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ وہ ” شہرِ عظیم“ جسے پاکستان کا تجارتی مالی اور اقتصادی دارالحکومت کہا جاتا ہے ابھی تک پوری طرح ایسے اسلحہ بردار مہم جوﺅں کی بھرپور گرفت میں ہے جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتاکہ کہاں سے نمودار ہوتے ہیں ` کس سے ہدایات حاصل کرتے ہیں اور موت و دہشت کا بازار کس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے گرم کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک جب بھی بات بھتہ خوری اغواءبرائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کی ہوتی تھی تو ذہن فوری طور پر نائن زیرو اور اسے کنٹرول کرنے والی اس شخصیت کی طرف جاتا تھا جو تعلق تو پاکستان سے رکھتی ہے مگر دو دہائیوں سے لندن میں مقیم ہے۔ اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے ۔ اب کراچی میں ” فائر پاور “ پر اجارہ داری کسی ایک گروہ یا جماعت کی نہیں رہی۔ دوسری کئی مافیا ئیں بھی برتری اور کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ میں اپنے طاقتور حمایتیوں کی پشت پناہی سے میدان عمل میں کود چکی ہیں۔
عملی طور پر اب کراچی پر حکومت ریاست یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوئی رٹ نہیں۔ اور لگتا یہ ہے جو قوتیں رسمی طور پر کر اچی کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں ` انہیں ریاست کی رٹ قائم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر دلچسپی ہوتی تو وزارت اعلیٰ کا منصب دوبارہ سید قائم علی شاہ نامی آزمائے ہوئے ” مردِ عمر رسیدہ و ناتواں“ کے سپرد نہ کیا جاتا۔ کہیں نہ کہیں کوئی بڑی گڑبڑضرور ہے۔ کسی نہ کسی کی نیت میں کوئی بڑا فتور لازماً ہے۔اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنا مقصود ہے تو سب سے پہلے ` کراچی کو ان قبضہ مافیاﺅںکے شکنجے سے آزاد کرانا ناگزیر ہوگا جن کے سرپرست نہیں چاہتے کہ شہرِ قائد میں ریاست کی رٹ بھرپور طریقے سے قائم ہو۔ اور قبضہ مافیاﺅں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کے لئے ناگزیر ضرورت `پورے شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کی ہے۔
یہ کیسے ممکن ہوگا۔؟
اس سوال کا جواب ہر اس شخص کو دیانت داری سے تلاش کرنا چاہئے جس کا مستقبل پاکستان کی ترقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔۔۔
(یہ کالم اس سے پہلے 11-06-2013 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top