4g, 3g لائسنس اسکینڈل: اسحاق ڈار، انوشہ رحمان کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع

  • سابق چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ، ممبر ٹیلی کام مدثر حسین، شبیراحمد کے خلاف بھی تحقیقات کا فیصلہ ، ایف آئی اے تمام متعلقہ تفصیلات نیب کے سپرد کر دیں
  • 2014میں پی ٹی اے نے وزارت آئی ٹی کے مشورے پرلائسنس کی نیلامی کا عمل شروع کیا تھاجسے براہ راست متاثر کیا تھا

4g3g

اسلام آباد(الاخبار نیوز) ن لیگ کے دور میں تھری جی اور فور جی لائسنس کی بولیوں میں فکسنگ کا بڑا انکشاف ہوا ہے.تفصیلات کے مطابق تھری اور فورجی لائسنس کے اجرا میں بدعنوانی کی نیب تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے. نیب نے اسحاق ڈار اورانوشہ رحمان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا.سابق چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ، ممبر ٹیلی کام مدثر حسین، شبیراحمد کے خلاف بھی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے.ایف آئی اے نے اسحاق ڈار اور انوشہ رحمان کی 5 سالہ سفری تفصیلات نیب کو سونپ دیں، سابق چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ کی بھی تفصیلات نیب کو فراہم کر دی گئی ہیں.یاد رہے کہ نیب نے تھری، فور جی لائسنس اسکینڈل میں ایف آئی اے سے مدد لی تھی، ابتدائی تفتیش میں ٹیلی کام کمپنیز کو مخصوص قیمت پر لائسنس دینے کا پتا چلا تھا.واضح رہے کہ 2014 میں پی ٹی اے نے وزارت آئی ٹی کے مشورے پرتھری، فورجی لائسنس کی نیلامی کا عمل شروع کیا تھا، ٹیلی کام کمپنیز، پی ٹی اے، وزارت آئی ٹی نے شفاف بولی کےعمل کو براہ راست متاثر کیا تھا.ذرایع کے مطابق قومی خزانے کو بھاری نقصان، جب کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا اور اس ضمن میں ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے سابق وزیر مملکت انوشہ رحمان سے ہدایات وصول کیں۔

Scroll To Top