کرپشن نہیں ۔۔۔ چوری ! 08-06-2013

kal-ki-baat
ایک زمانہ تھا جب رشوت اور راشی ایسے الفاظ تھے جنہیں سنتے ہی لوگ کانوں کوہاتھ لگایا کرتے تھے۔ کوئی شخص رشتہ داروں میں یا پڑوس میں اپنے جانے پہچانے اور ظاہر کردہ ذرائع آمدنی سے زیادہ خرچ کرتا نظر آتا تھا تو لوگ اسے ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھنا شروع کردیتے تھے۔ راشی اور مرتشی دونوں کو معتوب سمجھا جاتا تھا اگر کوئی شخص ناجائزذرائع سے دولت کماتا بھی تھا تو اس کی کوشش ہوتی تھی کہ ایسی دولت کوچھپا کر رکھے تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں نہ آئے۔
اب دنیابدل چکی ہے ۔ عزت و تکریم اب دولتمندی کی ہوتی ہے خواہ یہ دولتمندی ناجائز آمدنی اور کرپشن کی مرہون منت کیوں نہ ہو۔
1994ءمیں جب میں ہنوز ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے منسلک تھا تو سی بی آر نے ٹیکس چوری کے خلاف ایک اشتہاری مہم چلانے کا ارادہ کیا۔ اُس زمانے میں ایف بی آر کو سی بی آر کہتے تھے۔
میں نے اس ضمن میں ” ٹیکس بچانے “ کے رویے کو ٹیکس چوری سے ملایا۔ چند ہی اشتہار چلے تھے کہ کاروباری دنیا میں ایک طوفان سا مچ گیا ۔ سی بی آر کے چیئرمین پر اس قدر شدید دباﺅ پڑا کہ انہوں نے اشتہاری مہم فوری طور پر رکوادی۔ ان کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا۔
” بزنس کمیونٹی اس بات پر سیخ پا ہے کہ انہیں چور کہا جارہا ہے ۔ آپ یہی بات ذرا شائستہ الفاظ میں بیان کریں۔“
” جب تک چوری کو چوری اور چور کوچور کہا اور سمجھا نہیں جائے گا جناب عالی “ میں نے جواب میں کہا ” تب تک معاشرہ اس قسم کی برائیوں سے پاک نہیں ہوگا۔“
مجھے تقریباً 19برس بعد یہ مکالمہ اس لئے یاد آیا ہے کہ آج اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ہم نے گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک میں کرپشن کو وباکی طرح پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لیتے دیکھا ہے۔ کاروبارِ مملکت میں کوئی شخص ایسا نہیں تھاجو کرپشن میں سر سے پاﺅں تک ڈوبا ہوا نہیں تھا۔ قومی خزانے کو اِس بے دردی کے ساتھ لُوٹا گیاکہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
آج ہم اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں خالی خزانہ بڑے تمسخرانہ انداز میں ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔اور جنہوں نے اسے نہایت بے رحمانہ انداز میں لُوٹا وہ ایک بار پھر قوم کے خادم بنتے دکھائے دے رہے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ ہمیں کرپشن جیسے مہذب الفاظ ترک کرکے چوریوں کو چوریاں اور چوروں کوچور کہنا ہوگا۔
ہمارے جن جن ” اکابرین “ کو بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے ’ وہ درحقیقت چوری کرنے کے ملزم ہیں۔
اگر ان چوروں نقب زنوں اور ڈاکوﺅں کو پکڑنے اور کیفرکردار تک پہنچانے میں ہم نے کوئی کاہلی یا رعایت برتی تو تاریخ کی نظروں میں ہم بھی شرکائے جرم شمار ہوں گے۔

Scroll To Top