چوہدری نثار علی خان نے دیر کردی !

zaheer-babar-logo
سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے سینئر مگر ناراض رہنما چوہدری نثار علی خان نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دیئے ہیں اس لیے اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا اور اب زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔
اس پر یقینا افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان جیسا زیرک سیاست دان بھی یہ نہ سمجھ سکا کہ مسلم لیگ ن کسی طور پر جمہوری جماعت نہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے لوگ جس طرح اس جماعت میں کلیدی عہدوں پر موجود ہیں اس کے بعد کسی کو شک نہیں ہونا چاہے کہ پی ایم ایل این لمیڈ کمپنی ہے جو انفرادی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر ہمارے ہاں چوہدری نثار علی خان اور مخدوم جاوید ہاشمی جیسے لوگ سنیئر سیاست دان کہلائیں گے تو پھر قومی سیاست کا اللہ ہی حافظ ہے۔ مطلب یہ کہ اگر چار چار دہائیوں سے سیاست میں رہنے والے بھی ملک وقوم کے لیے کچھ نہ کرسکے تو پھر کسی اور سے بہتری کی توقع کیونکر رکھی جائے۔ملکی سیاست دانوں کو جان لینا چاہے کہ قومی سیاست تیزی تبدیلی ہورہی ، عام پاکستانی یہ تقاضا کررہا کہ وہی سیاست دان معتبر ہوگا جو ان کی مشکلات حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریگا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں چند ایک میگا پراجیکٹ تو بناتی رہی مگر لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدمات نہ اٹھائے گے، حد تو یہ ہوئی کہ آج خبیر تا کراچی لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی جوں کا توں موجود ہے۔
دوسری جانب عام انتخابات سر پر ہیں مگر غیر یقینی کی صورت حال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ بعض مخصوص حلقے دانستہ طور پر یہ صبح وشام یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیں کہ الیکشن بروقت نہیںہونگے۔ افواہ سازی کے اس کھیل میں ہر کوئی اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی خواہش یہی ہے کہ الیکشن بروقت ہوں یا تاخیر میں وہ لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہے کہ انھوں نے کرپشن نہیں بلکہ ان کے ساتھ ظلم وزیادتی ہوئی ۔
گماں یہی ہے کہ چوہدری نثار علی خان اب ماضی کے برعکس زیادہ کھل کر شریف برادران پر حملے آور ہونگے ، مسلم لیگ ن کے کچھ حلقے دعوی کررہے کہ مسلم لیگ ن نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت سابق وزیر داخلہ پر کیچڑ اچھالا۔ ٹکٹ دینے اور نہ دینے کا کھیل کھیلا گیا۔ خادم اعلی اس تمام منصوبہ کا حصہ تھے جو چوہدری نثار علی خان کو پارٹی میںواپس لانے کے وعدے کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ کو کہنا پڑ گیا کہ پی ٹی آئی میں 10 جبکہ ن لیگ میں 100 سے بھی زائد خامیاں ہیں۔ ان کے بعقول عورت راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پر مسلط کر دی۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے 34 سال کی رفاقت کا خیال آجاتا ہے ورنہ میں نے منہ کھولا تو یہ شریف برادران کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس موقعہ پر جب کارکنوں نے چوہدری نثار سے پی ٹی آئی میں شمولیت سے متعلق استفسار کیا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ آپ الیکشن پر توجہ دیں، بہتر فیصلہ کروں گا۔
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے تمام تر تجربہ کے باوجود تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ وہ 2 قومی اور پنجاب کی 2 صوبائی نشستوں کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد کس حد تک کامیاب ہوسکیں گے۔
چوہدری نثار علی خان کے حامیوںکا دعوی ہے کہ طویل عرصہ سے سیاست میں رہنے کے سبب سابق وزیر داخلہ کا اپنا ووٹ بنک بھی بن چکا ہے لہذا وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے حلقے کے عوام انھیں مایوس نہیں کریں گے۔ دوسری جانب یہ نقطہ نظر بھی ہے کہ چوہدری نثار علی خان اب تک مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے رہے۔ میاں نوازشریف کا ووٹ اور چوہدری نثار علی خان کی شخصیت دونوں ہی ان کو ہر انتخاب میں کامیاب بناتے رہے۔
مسلم لیگ ن کے اندرونی حلقوں میں یہ رائے بھی موجود ہے کہ چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے میں کوئی اور نہیں خود مریم نواز مخالفت کررہیں چکری کے چوہدری نے جس طرح مریم نواز کی قیادت کو نہ ماننے سے انکار کیا وہ مسلم لیگ ن کی نئی سیاسی جانشین کو پسند نہیں آیا۔ سابق وزیر داخلہ شائد یہ جان نہیں پائے کہ میاں نوازشریف اورشبہازشریف اندرون خانہ ایک ہی ہیں لہذا اگر چوہدری نثار علی یہ سمجھتے رہے کہ وہ کوئی مخصوص لائن لے کر شہبازشریف گروپ میں رہیں گے تو شائد ان کی بھول تھی ۔ شریف برداران نے ایک مرتبہ ثابت کیا کہ وہ سخت گیر اور صلح جو کا کھیل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس سے کام لے کر انھوں نے ماضی میں فائدہ اٹھائے اور مسقبل میں بھی یہی ہتکھنڈے آزمایا جاتا رہیگا۔ تاثر یہ تھا کہ چوہدری نثار علی خان کے موقف کے حق میں پی ایم ایل این سے کچھ لوگ سامنے آئیں گے مگر سابق وزیر داخلہ کی بڑی ناکامی یہی ہے کہ انھیں مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی سے نمایاں سیاسی حمایت نہ مل سکی۔

Scroll To Top