ن لیگی مالیتی پالیسیو ں کے تباہ کن نتائج سامنے آنے لگے:ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

  • اسٹیٹ بینک کا روپے کی قدر میں مزید کمی پرمداخلت نہ کرنے کا فیصلہ ، انٹربینک میں ڈالر مہنگا ہونے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے
  • ڈالر مہنگا ہونے سے درآمدی اشیا بھی مہنگی ہوں گی اور مہنگائی کی نئی لہر آئے گی ،ملک بوستان صدر فاریکس ایسوسی ایشن

ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

کراچی(الاخبار نیوز) انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 121 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا جو بعد میں کم ہوکر 119.50 پیسے پر آگیا جب کہ اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں مزید کمی پرمداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں آج ڈالر 5 روپے 38 پیسے تک مہنگا ہوا اور 121 روپے کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا تاہم کاروبار کے دوران ڈالر کی قیمت میں 3 روپے 88 پیسے کمی ہوگئی جس سے ڈالر 119.50 روپے پر آگیا۔ڈالر کی قیمت میں اضافے پر فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا۔ملک بوستان کا کہنا تھاکہ انٹربینک میں ڈالرمہنگا ہونےکی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں بھی اثردیکھا جارہا ہے، اچانک سے انٹربینک میں ڈالر مہنگا ہونے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ انٹربینک میں تیزی سے روپے کی قدر میں گراوٹ رک گئی ہے، بڑھتا تجارتی خسارہ اور گرتے زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کی گئی، روپےکی قدر میں کمی سے تجارتی خسارہ کم ہوگا اور برآمدات بڑھیں گی۔ملک بوستان نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کرنا ہی تھی تو 20 سے 25 پیسے کرنی چاہیے تھی، ڈالر مہنگا ہونے سے درا?مدی اشیا بھی مہنگی ہوں گی اور مہنگائی کی رفتار بڑھے گی۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں مزید کمی پر مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی قدر میں اضافے پر بیان جاری ہونے کا امکان ہے۔

Scroll To Top