اے خدا میرے ابو سلامت رہیں ۔۔۔

ہم کافی دیر سے اپنی بیانک بیٹریوں پر مطلوبہ فریکوئنسی سیٹ کررہے تھے مگر کامیابی نہیں حاصل ہورہی تھی۔ پھر ایکدم ہمارے کانوں سے سٹیٹ لائف کا گانا ٹکرایا۔
” اے خدا میرے ابو سلامت رہیں۔۔۔“
پہلے ہم سمجھے کہ آواز ٹی وی سیٹ سے آئی تھی مگر پھر ہم نے مریم بی بی کی آواز پہچان لی۔
” اے خدا میرے ابو سلامت رہیں۔۔۔“
وہ مسلسل گنگنارہی تھیں۔
اچانک میاں صاحب کی بھاری بھر کم آواز سنائی دی۔
” یہ کون ساگیت تمہارے منہ پر چڑھ گیا ہے آج۔۔۔؟ ہم خیر سے سلامت ہیں۔ اور سلامت رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔“
” ابا حضور یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ آپ سلامت رہیں۔۔۔ آپ ہیں تو میں بھی ہوں۔ ورنہ وہ جو فلموں میںاکثر ظالم سماج کا ذکر ہوتا رہتا ہے وہ سچ مچ موجود ہے۔“ مریم نے کہا۔ جواب میں میاں صاحب بولے ۔
” مگر آج یہ منحوس گیت تمہارے منہ پر چڑھا کیسے ہے۔۔۔؟ اس سے تو لگتا ہے کہ ہماری سلامتی خطرے میں ہے۔“
” ابا حضور سچ بتاﺅں۔ آپ برُا نہ منایئے گا۔ کچھ روز پہلے تک میں اپنے آپ کو حسینہ واجد اور بے نظیر بھٹو کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ حسینہ واجد تک تو بات ٹھیک ہے۔ ظالموں نے شیخ مجیب کو مار ڈالا تو وہ ایک عظیم الشان جدوجہد کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم اور نجات دہندہ بن گئیں ۔ مگر بے نظیر بھٹو والا معاملہ ٹھیک نہیں۔۔۔“
”تم منحوس باتیں مت کرو۔ ہم بالکل تیار نہیںمارے جانے کے لئے۔ تمہیںوزیراعظم بننے کی جلدی کیا ہے۔؟ ویسے بھی جس عظیم الشان جدوجہد کے نتیجے میں حسینہ واجد یہاں تک پہنچی ہے اس میں بھارتی حکومت کا بڑا عمل دخل تھا۔“
” ابا حضور آپ کے سامنے تو مودی انکل نے مجھے بیٹی کہہ کر پکارا تھا۔ مجھے اُن کا آنا بڑا اچھا لگا تھا۔۔۔“ مریم بولیں۔۔
”تم حسینہ واجد بننے کا خیال دل سے نکال دو۔ میں جیل میں دوچار سال گزارلوں گا مگر شیخ مجیب الرحمان کی طرح مارا جانا مجھے بالکل منظور نہیں۔“ میاں صاحب نے کہا۔۔۔
” ہمارے فوجیوں میں اتنا دم خم نہیں کہ خدانخواستہ آپ کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔۔۔ مجھے تو ویسے ہی حسینہ واجد بننا اچھا لگتا ہے۔ بے نظیربھٹو میں بالکل نہیں بننا چاہتی۔۔۔“ مریم بولیں۔۔۔
” وہ کیوں بیٹی۔۔۔؟ بے نظیر بھٹو میں کیا خرابی تھی۔۔۔؟“ میاں صاحب نے کہا۔۔۔ جواب میں مریم بولیں۔۔۔
” ذرا سوچیں نہ ۔۔۔ خدانخواستہ ماڈل ٹاﺅن میں جو مار دھاڑ ہوئی تھی اگر آپ اس کیس میں دھر لئے جائیں ۔۔۔ جیسے بھٹو ، احمد رضا قصوری کے ابا کے قتل کے کیس میں دھرلئے گئے تھے۔۔۔ اور نوبت۔۔۔ میرے منہ میں خاک۔۔۔ پھانسی تک جاپہنچے تو جانتے ہیںکیا ہوگا؟ میں بے نظیر بھٹو بن جاﺅں گی ۔۔۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ مگر میں اکیلی بے نظیر نہیں بنوں گی ، یہ جو میرا میاں ہے یہ زرداری بن جائے گا۔۔۔ اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بے نظیر بچاری گڑھی خدابخش میں ابدی نیند سو ئیں ہیں اور زرداری بھٹو کا جانشین بنا بیٹھا ہے۔۔۔آپ سوچیں اگر آپ کی جانشینی صفدر کے پاس چلی جائے تو آپ کی روح کو کتنی تکلیف ہوگی ۔۔۔!“
” لاحول والا۔۔۔ میری رو ح کو فی الحال بیچ میں مت لاﺅ۔۔۔ میں نوازشریف ہوں بھٹو نہیں۔۔۔ بھٹو کو تو پاﺅں پڑنا آتاہی نہیں تھا ورنہ زرداری کے بارے میں ہم کبھی سنتے بھی نہ۔۔۔ تم نے تو میرے جیتے جاگتے وجود کے سامنے اس گدھے کو لاکھڑا کیاکہ آج سے یہ آپ کا داماد ہے۔۔۔ “ میاں صاحب بولے ۔۔۔جواب میں مریم نے کہا۔۔۔” پرانی باتیں یاد کرکے اپنا اور میرا دل نہ دکھائیں۔ بھول چوک آدمی سے ہوتی رہتی ہے۔ آپ نے بھی تو ۔۔۔ خیر۔۔۔ میں کہہ رہی تھی کہ مجھے صفدر پر ذرا بھی بھروسہ نہیں۔ اگر اس نے زرداری بننے کی ٹھان لی تو میرا کیا ہوگا۔۔۔“
” خدا نہ کرے بیٹی۔۔۔ تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیاہے۔۔۔ “میاں صاحب بولے۔
”اسی لئے تو آج یہ بول میرے منہ پر چڑھ گئے ہیں۔ اے خدا میرے ابو سلامت رہیں۔۔۔“ مریم بولیں۔۔۔ ” میرا سارا دبدبہ آپ کے دم سے ہے۔ تھینک یُو ابا حضور۔۔۔“
” تھینک یُو تو ٹھیک ہے مریم۔۔۔ مگر ایک مہنیہ ایک مہینے میں گزر جائے گا۔ اور دن بھی تیس ہی ہوں گئے ۔۔۔ اکتیس نہیں۔۔۔ خواجہ حارث نے تو کہا تھا کہ وہ کیس انتخابات کے بعد تک کھینچ لے جائے گا۔ “ میاں صاحب بولے۔
” ابا حضور۔۔۔ یہ جو ہمدردی کے ووٹوں والی بات ہے اس میں کوئی صداقت ہے؟“ مریم نے پوچھا۔
” یہ صرف دل کو خوش کرنے اور مورال کو اونچا رکھنے کی باتیں ہیں بیٹی۔۔۔ سزا ہوگئی تو جاتی عمرہ کی دیواریں دھڑام سے نیچے آگریں گی۔۔۔ “ میاں بولے۔
” میں تو سوچ رہی تھی کہ آپ اندر گئے تو میں جوشیلی تقریریں کرکے لوگوں کا خون گرماﺅں گی ۔۔۔ انہیں غیرت دلاﺅں گی۔۔۔ مریم نے کہا۔
” یہی کام میں بھی تو کرسکتا ہوں۔ تم اندر چلی جاﺅ اور میںباہر لوگوں کا خون گرماﺅں ۔۔۔ اور ان کی غیرت جگاﺅں۔۔۔“
میاں صاحب نے بات مکمل ہی کی تھی کہ ہمارے بیانک رابطہ پر شائیں شائیں کا ایسا حملہ ہوا کہ ہمارے پاس اپنی بیٹریاں آف کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا۔۔۔

Scroll To Top