ایک اور تاریخی مقدمہ کا فیصلہ ہونے کو ہے !

zaheer-babar-logo
سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز کا فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کا حکم دے دیا۔گذشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں احتساب عدالت کی درخواست پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے حوالے سے سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے احتساب عدالت کو نواز شریف، ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرمحمد صفدر کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
اس میں دوآراءنہیں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ تاریخی ہے۔کم وبیش ستر سالوں میں وزارت عظمی پر فائز کسی شخص کے خلاف کرپشن کا کیس یوں اپنے منطقی انجام کی طرف نہیں بڑھ رہا۔ میاں نوازشریف کوئی عام سیاست دان نہیںبلکہ تین دہائیوں سے زائد تک قومی سیاسی افق پر نمایاں رہنے والی شخصیت ہیں۔ سابق وزیر اعظم اور ان کے حامی کچھ بھی کہتے رہیںمگر حقیقت یہ ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر لوٹ مارکے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اس سچائی کو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عام آدمی کی سیاسی حمایت ختم کرنا آسان نہیں۔ ملک میں غربت ، پسماندگی اور دیگر مسائل کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں اپنی مدت پوری کرنے مسلم لیگ ن کے دو وفاقی وزراءاحسن اقبال اور اسحاق ڈار تسلیم کرچکے کہ ارض وطن کی کم ازکم چالیس فیصد آبادی خطے غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ۔ لہذا ان حالات میں لوگوں کی مثالی سیاسی شعور کا مطالبہ کرنا خلاف حقیقت ہوگا۔ یہ ناممکنات می سے نہیں کہ آج کی بجائے مسقبل کے پاکستان میں میاں نوازشریف سے زیادہ شدت سے نفرت کی جائے ۔ وجہ یہ کہ مسلم لیگ ن نے ایسے وقت میں پاکستان پر حکمرانی کی جب آئندہ دس سالوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں پانی نہ ہونے کا خطرہ ظاہر کیا جارہا۔ مگر آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پر حکومت کرنے والے خادم اعلی نے کوئی بھی چھوٹا بڑا ڈیم بنانے کی زحمت نہیںکی۔ سینکڑوں ارب روپے سے بعض شہروںمیں میڑو اور اورینج ٹرین جیسے منصوبہ تو مکمل کیے گے مگر پنجاب کے کسی ایک شہر میں بھی پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ ن لیگ کی” بدقسمتی “ یہ ہے کہ اب عام پاکستانی تیزی سے باشعور ہورہا وہ پی ایم ایل این کے اس نقطہ نظر کو باآسانی قبول کرنے کو تیار نہیں کہ سابق وزیر اعظم اب نظریاتی ہوچکے یا ان کی لڑائی اس سرزمین پر رائج اس بوسیدہ نظام کے خلاف ہے جس نے ستر سالوں سے عوام کو مسائل کی گرداب میں پھنسا رکھا ہے۔
میاں نوازشریف کے ناقدین سابق وزیر اعظم کی سیاسی زندگی کو دو نمایاں ادوار میں تقسیم کرتے ہیں یعنی ایک وہ دور جس میں وہ برسراقتدار ہوں اور دوسرا وہ جب وہ حزب اختلاف کا کردار نبھائیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب وہ برطانیہ میں موجود رہے تو یقینا وہ نظریاتی تھے مگر اقتدار ملتے ہی انھوں نے ان تمام اچھے منصوبوں سے قطع تعلق کرلیا جن پر عمل درآمد کی یقین دہانی اپنے ہر ملنے والوں کو دیا کرتے۔ اب سابق وزیر اعظم ایک پھر نظریاتی ہوچکے مگر شومئی قسمت سے اب ملک کے طول وعرض میںان پر یقین کرنے والوں کی تعداد خاصی کم ہوچکی۔
ادھر میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز یہ دہائی بھی دے رہی کہ مقدمات کے سبب وہ لندن میں زیر علاج کلثوم نوازکی عیادت کے لیے بھی نہیں جاسکتے۔ اس پر گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اگر نوازشریف اور مریم نواز لندن میں زیرِ علاج بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں درخواست دیں اور لندن چلے جائیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے بتائیں نواز شریف عیادت کے بعد کب واپس آئیں گے۔جناب ثاقب نثار کا کہنا تھا آپ تشہیر کے لیے کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لیے اجازت نہیں دی گئی، اگر زبانی بھی درخواست کی جائے گی تو ہم اجازت دیں گے۔
دراصل احتساب عدات میں نیب ریفرنسز کی سماعت گزشتہ برس 13 ستمبر سے جاری ہے۔ سپریم کورٹ کی متعین کردہ مدت رواں برس مارچ میں ختم ہونی تھی تاہم سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کی درخواست پر شریف خاندان کے خلاف زیرِ سماعت نیب ریفرنسز کی ٹرائل کی مدت میں 2 ماہ تک کی توسیع کردی تھی۔اب ایک بار پھر احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی توسیع شدہ مدت مئی میں اختتام پذیر ہوئی تاہم احتساب عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ میں ٹرائل کی مدت میں مزید توسیع کے لیے درخواست دائر کی گئی جسے عدالتِ عظمی نے قبول کرلیا اور ٹرائل کی مدت میں 9 جون تک توسیع کی۔حال ہی میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت میاں نوازشریف کے مقدمہ کو متازعہ بنانے کی کوشش کی۔ سابق وزیر اعظم اس تمام عمل میں پیش پیش رہے اور اپنے خلا ف ہونے والی قانونی کاروائی کو بدعنوانی کی بجائے جمہوریت کے خلاف سازش سے تعبیر کررہے۔ عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گے اس سوال کو جواب بھی جلد ملنے کا امکان ہے کہ ملک بالخصوص پنجاب میں سابق وزیر اعظم کا بیانیہ کس حد تک مقبول ہوا۔

Scroll To Top